صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بیڑ میں تبلیغی جماعت کے ارکان ہجومی تشدد کا شکار

5 افراد کی شناخت، دو گرفتار، دیگر تین کے لیے سرچ ٹیم کی تشکیل کا ضلع ایس پی کا دعویٰ

49,652

اورنگ آباد : ملک کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہے ظلم و ستم اور ہجومی تشدد اور ذدوکوب کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، کچھ دن گزرتے نہیں ہیں کہ اس طرح کے ہجومی تشدد کے ذریعے سے مسلمانوں کو ہلاک کرنے یا شدید زخمی کرنے کے کسی نہ کسی نئے  واقعہ کی اطلاع آجاتی ہے۔ اسی طرح کے ایک معاملے میں اب علاقہ مراٹھواڑا کے بیڑ ضلع میں شرپسندوں فرقہ پرست عناصر نے مسلمانوں پر منظم حملہ کر کے انھیں شدید زخمی کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بیڑ ضلع کے تعلقے دھارور سے تعلق رکھنے والے تبلیقی جماعت کے افراد کو 16 ستمبر کی رات میں فرقہ پرست غنڈوں نے اپنے تشدد کا نشانہ بنا کر انھیں جان سے مارنے کی کوشش کی،اور انھیں شدیدزخمی کر کے فرار ہو گیے۔

بیڑ ضلع پولیس سپرنٹینڈینٹ ہرش پوتدار نے اس ضمن میں آج یو این آئی کو بتایا کہ اس معاملے میں کل رات دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اور ان کے علاوہ مزید 3 افراد کی شناخت کی گئی اور اور انکی گرفتاری کے لیے سرچ ٹیم بنائی گئی ہے۔ جلد ہی انھیں بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔

اطلاع کے مطابق دھارور کے تبلیغی جماعت کے امیر اور انکے کچھ ساتھی ایک تدفین اور جنازہ میں شرکت کے لیے رات میں دھارور سے امبہ جوگائی جا رہے تھے، راستے میں کیج – امبہ جوگائی روڈ پر انکی کار خراب ہو گئی۔ جسکے  سبب وہ لوگ راستے میں رک کر کار کا جائزہ لینے لگے، کار کے ریڈیٹر میں پانی ختم ہونے سے دھواں نکل رہا تھا، اس لیے دو لوگ پانی لانے کے لیے گیے، اسی دوران وہاں موٹر سائیکل پر سوار دو افراد آپہنچے اور انھوں نے آتے ہی وہاں موجود قاضی نظام الدین اور انکے دوسرے ساتھی کو گالی گلوچ کی اور مارو لانڈوں کو کہہ کر اپنے دوسرے ساتھیوں کو فون کرکے بلایا، فون کرنے پر فوری قریب سے دو اور موٹر سائیکلوں پر سوار 6 لوگ وہاں پہنچ گئے اور ڈنڈوں اور راستے پر پڑے ہوئے پتھروں سے انکے سروں پر مار پیٹ کر کے انھیں شدید زخمی کر دیا۔

واضح رہے کہ مہاراشٹرا میں مسلمانوں کی تضحیک اور توہین کرنے کے لیے "لانڈے” لفظ کا استعمال فرقہ پرستوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ غنڈوں کے ذریعے شدید ذدوکوب اور تشدد کے نتیجے میں قاضی نظام الدین اور سہیل تمبولی دونوں کے بے ہوش کر گرنے کے بعد ملزموں نے چلو یہاں سے یہ مرگئے کہہ کر راہ فرار اختیار کی۔ زخمیوں کو بیڑ کے سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں  پتھر سے سروں پر حملہ کرنے سے انکے سروں میں 8، 10 ٹاکے لگانے پڑے ہیں۔

قاضی نظام الدین کی شکایت پر یوسف وڈگاوں پولیس اسٹیشن میں تعزات ہند کی دفعہ 07 ،324، 323،147،148 ، 427 149، اور 504 کے تحت کیس درج کیا گیا ہے ۔

معاملے کی نزاکت کے مدنظر بیڑ ضلع ایس پی ہرش پوتدار یوسف وڈ گاوں پہنچے اور حالات کا جایزہ لیا۔ اور خاطیوں کی گرفتاری اور انکے خلاف سخت کاروائی کا تیقن دیا۔ اطلاع کے مطابق پولیس نے اس معاملے سے جڑے دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور ایک دوسرے ملزم کی تلاش میں لاتور روانہ ہوئی ہے۔ اس واقعہ کے خلاف عوام میں شدید ناراضگی  پائی جا رہی ہے اور ابتک بیڑ ، امبہ جوگائی اور دھارور میں ضلع کلکٹر کو محضر پیش کیے جا چکے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.