صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ہارورڈ سے ملازمت کی پیشکش، آن لائن دھوکہ ثابت ہوا

معروف  ٹیلی ویژن جرنلسٹ ندھی رازدان نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک انتہائی پیچیدہ فشنگ اٹیک کا نشانہ بنایا گیا ہے

22,797

ممبئی : جمعے کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پوسٹ کیے جانے والے ایک بیان میں ندھی رازدان کا کہنا تھا کہ میں ایک بہت سنگین فشنگ حملےکا نشانہ بنی ہوں جس میں وہ یہ یقین کر بیٹھیں تھیں کہ انہیں ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے بطور استاد ملازمت کی پیش کش کی جا رہی ہے جب کہ یہ ایک دھوکہ تھا۔

ایوارڈ یافتہ صحافی نے 21 سال این ڈی ٹی وی کے ساتھ کام کرنے کے اس ادارے کو چھوڑا تھا جو کہ ملک کا ایک مشہور نیوز چینل ہے۔ یاد رہے ندھی رازدان نے گذشتہ سال میں 13 جون کو اعلان کیا تھا کہ وہ ہارورڈ میں صحافت کی ایسوسی ایٹ پروفیسر نوکری کو قبول کرتے ہوئے این ڈی ٹی وی کو چھوڑ رہی ہیں۔

ندھی رازدان نے جمعے کو ایک بار پھر سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے اعلان کیا کہ انہیں اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ وہ ستمبر 2020 میں یونیورسٹی میں اپنی ملازمت کا آغاز کریں گی لیکن نوکری کی یہ پیش کش جعلی نکلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کی نوعیت پریشان کن ہے اور میں تمام متعلقہ شواہد کے ساتھ پولیس کو فراہم کرتے ہوئے اس پر شکایت درج کروا دی ہے۔

رازدان کے مطابق انہیں ملنے والی ای میلز کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ ملازمت کے آغاز کی تاریخ کو وبا کی وجہ سے آگے بڑھا دیا گیا ہے اور اب ان کی کلاسز جنوری 2021 میں شروع ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں تاخیر کے ساتھ میں نے اس میں متعدد انتظامی بے ضابطگیوں کو دیکھنا شروع کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے تو میں نے ان بے ضابطگیوں کو نظر انداز کر دیا کہ یہ وبا کی وجہ سے کام کرنے کے نئی طریقوں کی عکاس ہو سکتی ہیں۔ لیکن حال ہی میں میرے ساتھ جس طرح کے رابطے کیے گئے وہ بہت پریشان کن تھے۔جس کے بعد ندھی کے مطابق انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کی اعلی انتظامیہ سے وضاحت کے لیے رابطہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ انہیں دھوکہ دیا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے مجرموں نے میرے نجی ڈیٹا اور رابطوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے منظم جعل سازی اور غلط بیانی کا استعمال کیا اور ہوسکتا ہے کہ وہ میرے زیر استعمال رہنے والی ڈیوائسز اور میرے ای میل / سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل کر چکے ہوں۔ان کے مطابق وہ ہارورڈ یونیورسٹی کو بھی اس بات کو سنجیدگی سے اقدامات لینے کی درخواست کر چکی ہیں۔اس حوالے سے پولیس نے بھی شکایت درج کر لی ہے۔

رازدان ایک معروف صحافی ہیں اور وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور کٹھوا ریپ اور قتل کیس کی رپورٹنگ پر انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ انڈیا کا ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں۔ رزدان جولائی 2017 میں شائع ہونے والی کتاب لیفٹ رائٹ اینڈ سینٹر: دی آئیڈیا آف انڈیا کی مصنف بھی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.