صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

جماعت اسلامی ہند این آر سی سے خارج افراد کو قانونی امداد فراہم کرے گی

ہم ملک کے دیگر حصوں میں این آر سی کی توسیع کی مخالفت کرتے ہیں : نائب امیر جماعت اسلامی ہند

13,005

نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر سید امین الحسن نے کہا کہ جماعت این آر سی آسام کے حتمی فہرست سے خا رج لوگوں کی مفت قانونی مدد کرے گی ۔ انہوں نے ملک کے دیگر ریاستوں میں این آر سی کی توسیع کی بھی مخالفت کی ۔

مرکز جماعت اسلامی ہند میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ تقریبا 20لاکھ افرادحتمی فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دستاویزات میں معمولی غلطیوں کی وجہ سے ان کا نام رجسٹر میں داخل نہیں ہو سکا ہوگا ۔ جماعت این آر سی سے خارج لوگوں کو بلا تفریق مذہب و ذات پات کے مفت قانونی امداد پیش کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت ملک کے دیگر ریاستوں میں این آر سی کی توسیع کی بھی مخالفت کرتی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فلاح و بہبود کے بنیادی امور پر توجہ دے ۔

این آر سی کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں جماعت اسلامی ہند کے ملی امور کے سکریٹری جنرل ملک معتصم خان نے کہا کہ این آ ر سی کی حتمی فہرست ان لوگوں کے لیے مناسب جواب ہے جو یہ کہ رہے تھے کہ آسام میں 40لاکھ درانداز ہیں ۔ این آر سی آسام کے لوگوں کے لیے راحت ہے ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت تحریری طور پر ان لوگوں کو خارج کرنے کے وجوہات بتائے ، جن کے نام آخری فہرست میں شامل نہیں ہوسکے ہیں ۔

ہم یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ حکومت  ان قریب 20لاکھ لوگوں کو  بے وطن نہیں کرے گی ، کیونکہ اس سے عالمی برادری میں ہندوستان کی شبیہ کو نقصان پہنچے گا ۔ جن کے نام حتمی فہرست میں درج ہونے سے رہ گئے ہیں انہیں چاہیے کہ ضروری دستاویزات کے ساتھ دوبارہ اپیل کریں ۔ اپیل کرنے کے لیے ان کے پاس 120دن ہیں ۔ اگر وہ ٹریبیونل کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں تو ، گوہاٹی ہائی کورٹ اور یہاں تک کہ سپریم کورٹ بھی جا سکتے ہیں ۔ جماعت اسلامی ہند ہندوستان کے تمام امن پسند لوگوں سے آسام کے عوام کی مدد کی اپیل کرتی ہے ۔

کشمیر کے حالات کے سوال کے جواب میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر محمد جعفر نے کہا کہ ہم کشمیر کے حالات مے متعلق اتنا ہی فکر مند ہیں جتنا ملک کے دیگر عوام ۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق یقینی  بنائے جائیں ۔ جلد از جلد بھاری ملٹری کی موجودگی کی واپسی ، مواصلاتی نظام اور عوامی حکومت کی بحالی کے ذریعہ ریاست کے حالات کو معمول پر لانے کی ضرورت ہے ۔

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.