صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

غیر قانونی ٹیلفون ایکسچینج بے نقاب دہشت گردی سے وابستگی کا کوئی سراغ نہیں ایک گرفتار

ممبئی میں غیر قانونی ٹیلیفون ایکسچینج کےتار پاکستان اورآئی ایس آئی سے ملوث ہونے کا شبہ

63,978

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقہ گوونڈی میں چھاپہ مار کر غیر قانونی ٹیلفون ایکسچینج کوبے نقاب کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ ممبئی کے مضافاتی علاقہ نٹور پاریکھ کمپاؤنڈ گھاٹکو پرلنک روڈ گوونڈی میں غیر قانونی طریقے سے ٹیلفون ایکسچینج جاری تھا جس کی اطلاع ممبئی کرائم برانچ کو ملی اس نے یہاں چھاپہ مار کر ایک ملزم 39 سالہ سلیم قادر الوارے کو گرفتارکر لیا اور اس کے قبضے سے 191سم کارڈ اور غیر قانونی طریقے سے خلیجی ممالک میں کال کے آلات اور مشین بھی برآمد کئے ہیں ۔

ٹیلفون ایکسچینج سے غیر قانونی طریقے سے بیرون ممالک اور خلیجی ممالک میں فون کیا جاتا تھا اور اس سے بھارت کے سرکاری ٹیلفون کمپنی کو کروڑوں روپئے کا نقصان ہوتا تھا اس لئے کرائم برانچ نے ایسے گروہ پراپنی کارروائی تیز کر دی ہے ۔ جوائنٹ پولس کمشنر سنتوش رستوگی نے بتایا کہ گوونڈی میں چھاپہ مار کرایک کو گرفتار کیا گیا اور ٹیلفون ایکسچینج بے نقاب کیا گیا ہے لیکن اب تک اس کا دہشت گردی ، آئی ایس آئی یا پاکستان کے تعلقات سے متعلق کوئی سراغ نہیں ملا ہے ۔ جبکہ غیر قانونی طریقے سے ٹیلفوں ایکسچینج کا معاملہ درج کر لیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اب تک اس کیس کے پاکستا ن یا آئی ایس آئی سے کوئی تعلقات کے ثبوت نہیں ملے ہیں لیکن اس میں دہشت گردی کارروائی اور اس کے ملوث ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اسلئے کرائم برانچ اس نکتہ پر بھی تحقیقات کر رہی ہے ۔ ابتدائی تفتیش میں دہشت گردی کا کنکشن نہیں ملا ہے ۔ پولس اور کرائم برانچ اس معاملہ میں مزید تفتیش کررہی ہے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ممبئی سے غیر قانونی ٹیلفون ایکسچینج کو بے نقاب کیا گیا تھا اوربھارت ٹیلیکام کمپنی کو دھوکہ دینے والوں کو گرفتار بھی کیا تھا ۔

اس ٹیلی فون ایکسچینج کو دہشت گرد تنظیم بھی استعمال کرتی ہے اور اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے لئے وی او پی کا بھی استعمال کیاجاتا ہے اس لئے کرائم برانچ اس معاملہ میں بھی اپنی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا اس معاملہ میں دہشت گرد تنظیم ملوث ہے یا نہیں اور اس کا استعمال کس نے کیا تھا جو ملزم گرفتار ہوا ہے اس کا تعلق کسی دہشتگرد تنظیم سے ہے یا نہیں اس کی بھی جانچ جاری ہے ۔ ابتدائی تفتیش میں تو ایسا کوئی نام سامنے نہیں آیا ہے لیکن کرائم برانچ نے دہشت گردی کے کنکشن سے انکار نہیں کیا ہے اسلئے ملزم سے تفتیش کی جارہی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.