صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’میں آپ کے لیے رکشہ میں کولر لگانا چاہتا ہوں‘

۱۵؍سالہ مسلم لڑکے نے گرمی سے بچنے کے لیے ڈرائیوروالد کے آٹو رکشا میں ایئر کولر لگایا

550

اورنگ آباد : (جمیل شیخ) مہاراشٹر کے ثقافتی شہر اورنگ آباد کے ۱۵ سالہ بچے نے اپنے رکشہ ڈرائیور والد کی گرمیوں میں پریشانی دیکھ ایجاد کیا کم خرچ ایئر کولر ۔ شہر کی ملی جلی آبادی سوامی وویکانند نگر ہڈکو میں رہنے والا یہ ہونہار طالب اس وقت اپنی ایجاد کی وجہ سے شہر بھرمیں موضوع گفتگو بنا ہوا ہے اور ہر طر ف سے اس کی ستائش کی جارہی ہے ۔ مہاراشٹرمیں اس وقت شدت کی گرمی ہے ، درجہ حرارت  42 سے اوپر چل رہا ہے ۔ ایسی حالت میں جب ایک دسویں جماعت کا طالب علم دیکھتا ہے کہ اس کے والد آٹو رکشہ چلارہے ہیں ، پسینہ پونچھ رہے ہیں ، سواری بھی پسینے سے شرابور ہے ۔ اسی کے ساتھ وہ سڑکوں پر دوڑتی ایئر کنڈیشن قیمتی کاروں ،OLAاور UBERکے گاڑیوں کو جو فراٹے سے سڑکوں پر دوڑرہی ہیں ۔ عام آدمی نہ تو ان گاڑیوں میں بیٹھ سکتاہے اور نہ ہی گرمی کی شدت سے بچ سکتاہے ۔ طالب علم بے چین ہے ، وہ اس تگ و دو میں ہے کہ کس طرح سے اپنے والد کو اس مصیبت سے نجات دلائے جو رات دن محنت کررہے ہیں ۔

Have now sweetest dishes of Ramadan with all new latest addition of #nutella #malpuva #masala #milk #madinah #kalmi…

Posted by Tahoora Sweets on Friday, 17 May 2019

والد کبھی کبھار ایئر کنڈیشن ، کولر ،ACکا کام بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے کچھ سامان گھرمیں پڑا رہتا ہے ۔ گرمی کی وجہ سے گھرمیں کولر (coolerلایا گیا اور بس کیا تھا اسی کولر کو دیکھ کر اس کے دماغ نے تیزی سے کام کرنا شروع کردیااور اس نے اپنے والد مظہر مرزا سے کہا کہ ابو جان میں دیکھتا ہوں کہ آپ اتنی شدت کی دھوپ میں رکشہ چلاتے ہیں ، رکشہ کا چھت گرم ہوجاتاہوگا او ر لوگ بھی نہیں بیٹھتے ہوں گے ، میں چاہتاہوں کہ جس طرح آپ ہمارے لیے گھر میں کولر لے کر آئے ہیں اسی طرح کا ایک کولر آپ کی رکشہ میں بھی لگایا جائے ۔ اس طالب علم کا نام ہے ، ایان مرزا ، جو اورنگ آ باد (مہاراشٹر) کے رضیہ سلطانہ اردو ہائی کا طالب علم ہے ۔ جب ایان کے والد نے اپنے پیارے بیٹے کے منھ سے یہ جملہ سنا کہ ’میں آپ کے لیے رکشہ میں کولر لگانا چاہتا ہوں‘ تو حیرت سے اس کو تکتے رہ گئے ۔ گھر کے کباڑ خانے میں پڑی ہوئی چیزوں کو اس نے جمع کیا اور کچھ چیزیں سنڈے مارکیٹ سے خرید لایا ۔ سب سے پہلے اس نے چھت کی گرمی کوروکنے کے لیے اندر سے فوم کو فیوی کال سے چپکایا اور اس کے اوپر رنگین قالین چڑھا دی ۔

رکشہ کے اندورنی حصہ میں جہاں ڈرائیور بیٹھتا ہے اس کے اوپر کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے دو پنکھے کی مدد سے کولر تیار کرلیا ۔ پچھلے حصے میں پچیس لیٹر پانی کی ٹانکی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ پانچ لیٹر پانی بھرا جاتاہے ۔ ٹاکی کے اندرپلاسٹک کے پائپ میں سراخ بنا ئے گئے ہیں جو ہوا کو ٹھنڈا کرنے کا کام انجام دیتاہے اور سامنے جو جالی لگائی گئی اس سے ٹھنڈی ہوا باہر نکلتی ہے جو سارے رکشتہ کو ٹھنڈا کردیتا ہے ۔ مرزا ایان کا تعارف اور اس کے خاندانی پس منظر کے بارے میں اورنگ آباد کے مشہور عالم دین و سماجی کارکن مرزاعبدالقیوم ندوی کا کہنا ہے سائنس مسلمانوں کی میراث ہے اور مسلم سائنسدانوں نے دنیا کوکئی نئی ایجادات سے روشناس کرایاہے ، ہمارے شہر کے مرزا ایان بیگ نے آٹو رکشہ میں کولر لگاکر اسی میراث کوآگے بڑھانے کا کارنامہ انجام دیا ہے ۔  لڑکے کے والد مرزا مظہر جو رکشہ ڈرائیور ہے ان کا کہنا ہے کہ ایان بچپن ہی سے ذہین اور ہوشیار ہے ، وہ ہمیشہ اپنے بیٹے کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں ۔

ایان سے آٹو رکشہ کوایئر کنڈیشن بنانے میں اخراجات کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایاکہ کل ملاکر خرچ 1500 روپیے آیاہے ۔ ابھی اس میں مزید تبدیلی ، اضافہ کر بہترین بنایا جاسکتا ہے ، میری کوشش رہے گی کہ اسے خوب سے خوب تر بنایا جائے اور عام انسان جو بڑی بڑی ایئر کنڈیشن کرایہ کی کاروں میں نہیں بیٹھ سکتے ہیں وہ رکشہ میں بیٹھک کر ان کاروں کا مزہ لیں ۔ اس سے قبل جب ایان آٹھویں جماعت میں تھے انہوں نے سائنس کی نمائش میں ہائی ڈورلیک(Hydraulic lift)بنائی تھی جسے بہت پسند کیاگیاتھا ۔ ایان کی خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ بھنگار اور کباڑ میں پڑے ہوئے سامان سے کچھ نہ کچھ نیا بناتا رہتاہے ۔ آگے چل کر وہ میکینیکل انجینئر بن کر اپنی قوم اور سماج اور ملک کے لیے کچھ کرکے دکھانے کا جذبہ اس کے اندر شدت سے پایاجاتاہے ۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ جس طرح سابق صدر جمہوریہ ہند اے پی جے عبدالکلام نے میزائل بناکر پوری دنیا میں بھارت کا نام روشن کیا اور ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بہ شانہ کھڑاکردیا ، کچھ اسی طرح وہ کرنا چاہتاہے ۔ ایان مرزا کے رکشہ میں کولر بنانے کے کام کی ہر جانب سے پذیرائی ہورہی ہے اور کئی فلاحی و سماجی تنظیمیں اس کے اعلی تعلیم کے لیے مدد کرنے کو تیارہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.