صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’عوام کے احتجاج کو کچلنے کے لیے سرکارطاقت کا استعمال کر رہی ہے‘

ہاتھوں میں آئین ہند کی نقل اور گاندھی امبیڈکر کی تصاویر لے کر مسلم عوام کا معاشر تی اضطراب باہرآرہا ہے

282,531

عارِف اگاسکر

اس وقت ملک شدید بحرانی کیفیت سے گذر رہا ہے ۔ بڑھتی ہوئی بیروز گاری ، صنعتوں کی خستہ حالی ، معاشی بد حالی اور مہنگائی کی مار سے عوام پریشان ہیں ۔ لیکن سر کار ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست میں مصروف ہے ۔ ملک کو درپیش ان تمام مسائل سے عوام کی توجہ ہٹا نے کے لیے مر کزی سرکار یکے بعد دیگرے این آرسی، سی اے اے اوراین پی آر جیسے قوانین کو عوام کے روبرو لا رہی ہے جو عوام کے لیے قابل قبول نہیں ہیں اور عوام انھیں آئین کے خلاف بتا رہے ہیں ۔ حکمراں طبقہ بضد ہے کہ ان قوانین کو عوام قبول کرے لیکن عوام ہے کہ ان قوانین کے خلاف برسرِ پیکار سراپا احتجاج بنی ہو ئی ہے۔ عوام کے اس احتجاج کو کچلنے کے لیے سر کارطاقت کا استعمال کر رہی ہے جس کے سبب ملک بھرمیں زبردست افرا تفری پھیل گئی ہے اور ملک میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا ہے ۔ این آر سی اور سی اے اے کے خلاف سب سے پہلے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے احتجاج کی صدا بلند ہوئی جو آج ملک کے ہر شہری کی آواز بن گئی ہے ۔

مسلمانوں کا اس طرح سرا پا احتجاج بننا ایک نئی تاریخ رقم کرتا ہے جسے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف زاویوں سے دیکھا اور پرکھا جارہا ہے ۔ اسی سلسلے میں ممبئی سے شائع ہونے والا مراٹھی روز نامہ ’لوکستّا‘ ۲۵؍ دسمبر کے شمارہ میں تحریر کردہ اداریہ میں یوں رقم طراز ہےکہ جھارکھنڈ کی انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مظاہرین کے لباس سے پتہ چلتا ہے کہ فسادات کون کرتا ہے ۔ لیکن کیا لباس اور نظریہ کے مابین ایسا فیصلہ کُن تعلق جوڑا جا سکتا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے ۔ کیونکہ فسادات کرنے والوں کو تلاش کرنے کا راستہ لِباس نہیں ہوسکتا اس کا وزیر اعظم نریندر مودی کو علم ہوگا ۔ لیکن اس کے باوجود ان کے ذریعہ دیئے گئے بیان کے پیچھے وجہ ہے ۔ یعنی اس بیان کے ذریعہ متعلقہ فسادیوں کے مذہب کاعلم ہو اور جس مذہبی پولرائزیشن کی توقع کی جارہی ہے وہ خود بخود ہو جائے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ۔

اس کے بر عکس جھارکھنڈ انتخابات میں بی جے پی کو رائے د ہند گان نے دھول چٹادی ۔ لیکن مدعا اس انتخاب کا نہیں ہے بلکہ شہریت کا قانون اور شہریوں کی فہرست کے مدعے پرملک بھر میں ہورہے احتجاج اور اس میں مسلمانوں کی شرکت ہے ۔ ا س تعلق سے کچھ افراد یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس موقع پر مسلمانوں میں آئی تبدیلی کونوٹ کر نا چاہیئے ۔ جو فی الحال صرف بصری شکل میں ہے جو سچ بھی ہوگا ۔ لیکن پھر بھی یہ تبدیلی اب بھی باعث تشویش ہےاور بین الاقوامی سطح پر اس تعلق سے بات کی جا رہی ہے ۔

ا س میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ درجنوں یا اس سے زیادہ مظاہروں میں سے کسی بھی مظاہرے میں یہ نظر نہیں آیا کہ مسلمانوں نے اپنا کوئی مذہبی جھنڈا لہرایا ہو۔ اس سے قبل ’سیٹینِک ور سیز‘ یا اس کے بعد جب جب اسلام پسندوں کے مظاہرے ہوئے ہیں تب ان کی جانب سے ہر بار مذہبی جھنڈے لہرائے گئے ہیں ۔ ان مظاہروں میں سبز اور سنہری کناروں کے سیاہ پر چم تھامےمظاہرین کے ذریعہ مکمل طور پر مذہبیت جتائی جا تی تھی اور اسی وجہ سے اُنھیں دیگر مذاہب کے افراد کی اتنی حمایت حاصل نہیں تھی ۔ تاہم حال کے مظاہروں کے دوران اس میں بڑی تبدیلی نظر آرہی ہے ۔

یہ سچ ہے کہ ان مظاہروں میں شریک ہو نے والے اسلام پسند ملبوسات کے ذریعہ اپنی مذہبی شناخت دکھاتے ہیں ، یعنی چھوٹے پاجاموں پر کُرتا اور چہرے پر اسلامی طرز کی داڑھی ۔ بس اتنا ہی اس سے زائد کوئی مذہبی نشانات ان کی جانب سے دکھائے نہیں جاتے ۔ لیکن ان مظاہرین کے ہاتھوں میں ہندوستان کا آئین ، مہاتما گاندھی اور بابا صاحب امبیڈکرکی تصاویر نظر آتی ہیں ۔ دہلی بنگلورو، کو لکتہ، ممبئی،حیدرآباد وغیرہ جگہوں پرکیے گئے مظاہروں میں یہی نظر آیا ہے ۔ اس کا سیدھا اثر تھا یا کچھ اور ، لیکن ان مظاہروں میں مسلمانوں کی طرح بڑی تعداد میں ہندو اور دیگر مذاہب کے افراد بھی بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ شریک ہو تے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ کچھ افراد کی نظر میں اس تبدیلی کے کوئی معنی نہ ہو ، لیکن انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ جب تک اندرونی طور پرکچھ معمولی تبدیلیاں شروع نہ کی جائیں تب تک وہ تبدیلی باہر نظر نہیں آتی ۔ اسےقبول کرنے پریہ تبدیلی نا گزیر نظر آئے گی ۔

بین الاقوامی سطح پر ’نیو یارک ٹائمزنامی معروف روزنامہ سیدھے اس تبدیلی کی جانب انگشت نمائی کرتا ہے ۔ مذکورہ روزنامہ میں حال ہی میں مصطفیٰ اکیول نامی دانشور نے اپنے ایک مضمون کے ذریعہ یہ مدعا پیش کیا ہے کہ اسلام پسندوں میں پہلی مرتبہ ’غیر مذہبی صبح‘ طلوع ہو رہی ہے ۔ ترکستانی اکیول ’نیویاک ٹائمز‘ کے مستقل ترجمان ہیں اور انھیں ’دی اسلامِک جیزس‘ نامی کتاب کے مصنف کےطور پر بھی جا نا جا تاہے ۔ یہ سوال کئی افرادکے ذہن میں ہو گا کہ عیسائی مذہب میں جس طرح کچھ صدیوں قبل بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ہوا چلی تھی کیا اسی طرح اسلام میں بھی تبدیلی ممکن ہے ۔ جس کا جواب عام طور پر یہی دیاجاتا ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں ہے ۔

اوکیول کا مشاہدہ ہے کہ درحقیقت اسلامی ممالک میں ایسی تبدیلی ہورہی ہے اور ایران وغیرہ ممالک میں بھی وہ نظرآرہی ہے ۔ اسے انھوں نے بخوبی پیش کیا ہے لہٰذایہ یقینی طور پر غور طلب ہے ۔ اس سے قبل ان مذہب پسندوں نے عمومی طورپر ’اسلامیانے‘ کا جوتجربہ کیا تھا اس میں مذکورہ مذہب کے سیاسی و ثقافتی پہلو بھی مذہب کے پردہ میں چھپ گئے تھے ۔ نتیجتاً اسلام کے گرد ایک پوشیدہ بنیاد پرستی کا پردہ حائل رہا ۔ اور ایسا سمجھا گیا کہ یہ مذہب بعض مذاہب اور اقدار کو قبول نہیں کرے گا ۔ جو کچھ حد تک سچ بھی تھا ۔ لیکن مصنف کی رائے ہے کہ اب اس میں بڑی تبدیلی آرہی ہے جس کے پیچھے اسلام پسند نوجوانوں کا بڑے پیمانے پر حصہ ہے ۔

امریکہ کی اسٹین فورڈ یو نیور سٹی میں ’عرب بیرو میٹر‘ کے نام سے مشہور سماجی علوم کے محققین کا ایک گروپ اس تبدیلی کو مستقل طور پر نوٹ کررہا ہے ۔ اس گروپ نے عالم اسلام کے رہن سہن میں تبدیلی اور اس کے پیچھے کے اسباب کا تذکرہ وسیع پیمانے پر کیا ہے ۔ ان کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں چھ بڑے عرب ممالک میں اسلام پسند سیاسی جماعتوں سے بڑے پیمانے پرعوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے ۔ اور ان ممالک کی مسجدوں میں نمازیوں کی موجودگی میں کافی کمی نظر آرہی ہے ۔ اسی طرح مذہبی لیڈران کو حاصل حمایت میں بھی کمی ہونے کا جائزہ بھی اس رپورٹ میں لیا گیا ہے جسے اعداد و شمار کے ذریعہ بتایا گیا ہے ۔ مذکورہ تنظیم نے ۲۰۱۳ء میں کی گئی رائے شماری میں مذہب پر عمل نہ کر نے والوں کی تعداد ۸؍ فی صد بتائی ہے ۔ آج وہی تعداد ۱۳؍ فی صد ہو گئی ہے ۔

اس کے پیچھے کی وجہ اسلامی سیاست داں اور ان کی سیاست کے سبب طلوع ہونے والی نئی صبح ہے ۔ اس کی شروعات مصر میں بر سر اقتدار آنے والی اخوان المسلمین نامی جماعت کی غیر اطمینان بخش کار کردگی کے ذریعہ ہوئی تھی ۔ اخوان المسلمین اسلامی بنیاد پرستوں کی موجودہ تنظیم ہے ۔ اس کے قیام میں پچاس کی دہائی میں حسن البناء نامی مذہبی بنیاد پرست کا بڑا حصہ تھا ۔ اس البنأ نے اس وقت کے امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کے ساتھ وہائٹ ہائوس میں مہمان نوازی کا شرف بھی حاصل کیا تھا ۔ عرصہ بعداس تنظیم نے مذہبی جنونیت کی راہ اختیار کی ۔ مصر میں آئی سیاسی تبدیلی کے دوران۲۰۱۲ء میں یہ تنظیم برسر اقتدار آئی جس کی قیادت محمد مُرسی نے سنبھالی تھی لیکن وہ غیر موثر ثابت ہوئے ۔ اس تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ اس وقت سے ہی مصرمیں نوجوان شہریوں کا مذہبی سیاست سے اعتماد اٹھ گیا ۔

بعد کے دور میں آئی سیس تنظیم کے ذریعہ پھیلائی گئی دہشت، عراق اور لبنان میں باغی تحریک کی پر تشدد ناکامی کے نتیجہ میں عام شہری اسلام سے دور جاتا نظر آتا ہے ۔ یہی حالت کچھ پیمانے پر عرب دنیا کے باہر بھی نظر آتی ہے ۔ مثلاًایران اور ترکستان ، ایران میں پچھلی چار دہائی سے زائد عرصہ سے مذہب پسندوں کا اقتدار قائم ہے ۔ لیکن اپنے شہریوں کومزید ’اسلامی نظام میں مبتلاء کرنے کے جنون میں اس ملک نے ترقی و ترویج کی جانب عدم توجہی برتی ہے ۔ جس کے سبب ایرانیوں کی ترقی کی راہ مسدود ہوئی ہے ۔ اور ان کی آئندہ نسل میں اسے مزید تقویت حاصل ہوئی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایرانی نوجوان جمہوری رواداری اور مذہب سے دور جیسے معاشرہ میں رہنا پسند کررہے ہیں ۔ ترکی کے شہریوں کے تاثرات بھی ایسے ہی نظر آتے ہیں ۔ اس کا مطلب یقیناً یہ نہیں ہے کہ ان ممالک کے شہری نا امید ہوئے ہیں ۔ انھیں ان کا خدا چاہیئے ۔ لیکن وہ اپنے مذہب سے ناراض ہیں ، یہ مشاہدہ اہمیت کا حامل ہے ۔ ہندوستان میں ہاتھوں میں آئین کی نقل اور گاندھی امبیڈکر کی تصاویر لے کر اسلامی عوام کی معاشرتی تبدیلی باہر آرہی ہے ۔ اگر یہ تبدیلی صحیح ہے تو دیگر افراد کو دوبارہ ان کے مفروضوں کی جانچ پڑتال کرنی ہوگی ۔ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ مختلف طریقوں سے ’اسلام خطرے میں ہے‘ ۔

arifagaskar@gmail.com     Mob:9029449982

Leave A Reply

Your email address will not be published.