صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کیا اپوزیشن وزیر اعلیٰ کے ساتھ ریاستی امور پر تبادلہ خیال کرنے میں شرمند گی محسوس کرتی ہے : سنجے رائوت

268,277

ممبئی : ریاست میں کرونا کی وبا نے تباہی مچا دی ہے ۔ کرونا سے لڑنے میں ریاستی حکومت کی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کے روز ‘مہاراشٹر بچاؤ تحریک چھیڑدی ہے ۔ پارٹی میں شامل بی جے پی کارکنوں نے گھروں کے باہر پلے کارڈز اور کالے جھنڈے آویزاں کرکے حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریاستی سرکار کی مذمت کی تھی ۔ دوسری طرف ، شیوسینا کے رہنما اور ممبر پارلیمنٹ سنجے راؤت نے بی جے پی کے مہاراشٹر بچاؤ اتحریک پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔

سنجے رائوت نے چٹکی لیتے ہوئے کہا بی جے پی اپوزیشن پارٹی کی حیثیت سے ناکام ہو رہی ہے ۔ بی جے پی کا یہ احتجاج مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ یہ بی جے پی قائدین کی تحریک ہے ۔ عوام اس میں شامل نہیں ہوئے ۔ آج آسمان میں کالے کوے  بھی دکھائی نہیں دیئے ۔ اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے سنجئے راوت نے بی جے پی کا مذاق اڑایا ہے ۔ سنجے راوت نے کہا کہ صرف یہی نہیں اگر بی جے پی احتجاج کرنا چاہتی تھی ، تو انہیں ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی سے گجرات منتقل کرنے کے معاملے میں کالی چڈی پہن کر احتجاج کرنا چاہئے تھا ۔ سنجے راوت نے کہا کہ بی جے پی قائدین تحریک کی ناکامی سے مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں ۔

اپوزیشن لیڈر دیویندر فڑنویس نے ٹھاکرے حکومت پر کورونا جنگ لڑنے میں ناکامی پر تنقید کی ۔ دیویندر فڑنویس گذشتہ کچھ دنوں سے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے مل رہے ہیں ۔ کانگریس اور این سی پی کے بعد ، شیوسینا نے اب بی جے پی کی تنقید پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ کورونا کے موقع پر مہاراشٹر میں نئے مسائل کھڑے ہوگئے ہیں ۔ حکومت کو ان سوالات کا سامنا ہے ۔ سنجے راوت نے کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر ریاست کی ترقی چاہتے ہیں تو انہیں اس مسئلے کو حل کرنے میں حکومت سے تعاون کرنا چاہئے ۔

اپوزیشن کو گورنر کے راج بھون  میں گھومنے کے بجائے وزیر اعلی کے گھر آکر ریاستی امور پر تبادلہ خیال کرنا چاہئے ۔ اپوزیشن لیڈر سنجے راوت نے بی جے پی سے پوچھا ہے کہ کیا اپوزیشن وزیر اعلیٰ کے ساتھ ریاستی امور پر تبادلہ خیال کرنے میں شرمند گی محسوس کرتی ہے ۔ کیا بی جے پی نے اپنی خود اعتمادی کھو دی ہے ؟ عوام نے انہیں اقتدار سے بے دخل کردیا ہے اور اگر بی جے پی کچھ کرتی ہے یا کچھ کہتی ہے تو ، لوگ مسکرا کر اس سے پوچھ رہے ہیں ، "میرے ، آنگنے میں تمھارا کیا کام ہے؟”

Leave A Reply

Your email address will not be published.