صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ممبئی میں مساجد سے آر ایس ایس کو مشتہر کرنے کی سازش 

کووڈ ہدایات کے نام پر ’’مسلم راشٹریہ منچ‘‘اور اجمیر و سمجھوتہ بلاسٹ میں مشکوک کردار کے حامل اندریش کمار کو مسلمانوں سےمانوس کرنے کی مذموم کوشش

23,796

ممبئی : (محفوظ الرحمن انصاری) آر ایس ایس اپنے ہندو راشٹر کے منصوبہ کو پورا کرنے کےلئے جہاں سارے حربے استعمال کر رہا ہے ، وہیں وہ مسلمانوں کو بھی گمراہ کر کے اپنے پالے میں کرنے کے لئے شاطرانہ چالیں چل رہا ہے ، اس کام کے لئے اس نے ’’مسلم راشٹر یہ منچ‘‘ نامی تنظیم بنائی ہے ، اور اس کا سربراہ اندریش کمار کو بنایا ہے ، جو سمجھوتہ ایکسپریس اور اجمیر بم دھماکوں میں مبینہ طور سے مشکوک  ہے ، اسی لئے اس کو تفتیشی ایجنسیوں نے طلب کیا تھا مگر سنگھ کے ہاتھ اور کانگریس کے ساتھ کی وجہ سے وہ آزاد ہے ۔

دو سال قبل اس تنظیم نے رمضان المبارک میں افطار پارٹی کا اہتمام کرکے مسلمانوں کو اپنے جا ل میں پھانسنے کی کوشش کی تھی ، مگر مسلمانوں نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا تھا ،اب کرونا کی آڑ میں اس نے اپنے پنجے پھر نکال لئے ہیں ۔ ممبئی کی ایک مسجد میں ’’کرونا سے بچنے کی احتیاطی تدبیر‘‘ نام کا ایک پوسٹر چسپاں ہے ، جس کے آخر میں نہ صرف ’’مسلم راشٹر یہ منچ‘‘ ممبئی ٹیم کا ہی نام لکھا ہوا تھا بلکہ اندریش کمار کا نام صاف طور پر پہلے نمبر پر تحریر ہے ، اندریش کمار کا نام ہونے کے باوجود اس پوسٹر کو مسجد میں چسپاں کرنے کی اجازت کیسے دی گئی ؟

جنوبی ممبئی میں واقع ڈنکن روڈ کے اسی بلڈنگ کے نیچے پنجوقتہ نمازوں کیلئے قائم مسجد میں مسلم راشٹریہ منچ کا پوسٹر چسپاں ہے

مسلمانوں کی سیاسی غفلت پر حیرت ہے ۔ اگر یہ غفلت نہیں تو کچھ لوگوں کے ذریعہ مسجد سے آر ایس ایس کو مشتہر کرنے کی بدترین کوشش ہے ۔ سنگھ پریوار کی چال یہ ہے کہ مسلمان ’’مسلم راشٹر یہ منچ‘‘ سے مانوس ہو کر بظاہر اس سے اور در حقیقت آر ایس ایس سے جڑ جائیں ۔

اس سے قبل بھی دیکھا گیا تھا کہ جنو بی ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقہ میں واقع ایک مشہور مسلم کالج کے گیٹ پر آر ایس ایس کی طلباء تنظیم اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد) نے ممبر سازی کے لئے ٹیبل لگایا تھا ، اور مسلم لڑکے لڑکیوں کو اپنا ممبر بنا رہی تھی ، اور بڑے افسوس کی بات تھی کہ اے بی وی پی کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں اس بات سے انجان مسلم طلباء اس کے ممبر بن رہے تھے ۔

ہندو جاگرن منچ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے اس طرح کے کھلے اعلان کے باوجود مسلم نوجوانوں میں بیداری نہیں

سب سے خطرناک بات تو یہ تھی کہ مسلم لڑکیاں بھی ممبر سازی کے فارم میں اپنا پتہ اور موبائل فون نمبر لکھ کر دے رہی تھیں ، ہماری قوم کی لڑکیوں کے نمبر آر ایس ایس کی طلباء تنظیم کو جا رہے تھے اس کے کتنے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں بتانے کی ضرورت نہیں ۔

یہ اسمارٹ فون استعمال کرنے والی نئی نسل جو بزعم خود کافی بیدار اور اسمارٹ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے مگر اس بات سے لاعلم ہے کہ سنگھ پریوار کیا ہے ، اور اس کے مقاصد کیا ہیں ،اور طلباء کی تنظیم اے بی وی پی  کیا ہے ؟ اسی طرح ہمارے بڑوں کی اکثریت نہیں جانتی کہ ’’مسلم راشٹر یہ منچ‘‘ کیا ہے ؟مسلمانوں کو اب تو غفلت سے جاگ جانے اور اپنے آپ سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ان حالات میں کیا حکمت عملی بنائی جانی چاہئیں۔ متحد رہنا، ہرسیاسی اور سماجی ہلچل پر گہری نظر رکھنا،بعد میں لاحاصل احتجاج اور پچھتاوے سے بہتر ہے۔

 برائے رابطہ موبائل نمبر :  9869398281

Leave A Reply

Your email address will not be published.