صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات 2019 : چاندیولی اسمبلی حلقہ 168 کا تاج کس کے سر 

27,226

2019 پارلیمانی انتخابات مہاراشٹرا میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور انڈین نیشنل کانگریس کی شکست اور بی جے پی شیوسینا کی کامیابی سے عوام میں بحث و مباحثہ جاری ہے کہ مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوچکا ہے کیا اسمبلی انتخابات میں بھی این سی پی و کانگریس شکست سے دوچار ہوگی اور کیا مہاراشٹر اسمبلی سے مسلم اراکين کی تعداد میں کمی ہونے کا امکان ہے ۔

مہاراشٹر اسمبلی 2009 میں کانگریس سے نسیم عارف خان ، امین پٹیل ، اسلم شیخ ، باباصدیقی ، عبدالستار ، آصف شیخ ، ابو عاصم اعظمی اور رشید طاہر مومن ، سماج وادی حسن میاں لال مشرف اور نواب ملک ، این سی پی اور مفتی محمد اسما عیل مالیگاٶں سمیت کل گیارہ مسلم اراکین اسمبلی موجود تھے لیکن 2014 کے اسمبلی انتخاب میں مفتی محمد اسماعیل ، نواب ملک ، باباصدیقی ، رشید طاہر مومن ہار گۓ جبکہ دو نۓ چہرے مجلس سے امتیاز جلیل اور وارث پٹھان نے پہلی مرتبہ کامیابی کا پرچم لہرایا تھا لہذا 2019 مہاراشٹر عام انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی اور سیکولر پارٹيوں کی شکست سے جہاں فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہیں وہیں سیکولر عوام تذبذب میں مبتلا ہیں کہ کیا مہاراشٹر اسمبلی میں مسلم امیدواروں کی کمی واقع ہوگی ؟ چنانچہ مسلم اراکين اسمبلی کے ماضی تا حال کے نتائج پر غور کرتے چلیں ۔

ممبٸی میں واقع چاندیولی اسمبلی حلقہ اس وقت سرخیوں میں ہے کیونکہ یہاں سے محمد عارف نسیم خان چار مرتبہ ایم ایل اے اور کیبنٹ منسٹر بھی رہ چکے ہیں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے بظاہر متحرک نظر آنے والے نسیم خان کی سیٹ پر فرقہ پرست شیوسینا و بھاجپا کی نگاہیں مرکوز ہیں گذشتہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں مودی لہر تھی جس کی وجہ سے کانگریس و این سی پی کے کٸی قدآور لیڈران کو شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن چاندیولی اسمبلی حلقہ میں مودی لہر کا کوئی اثر نہیں پڑا تھا ۔

2019 کے عام انتخابات مہاراشٹر میں کانگریس اتحاد کو شکست کے بعد  سب سے دلچسپ بات یہ سامنے آٸی تھی کہ کانگریس کے لیڈران نے الزام لگایا تھا کہ ونچت اگھاڑی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ حالانکہ پرکاش امبیڈکر اور اسدالدین اویسی جب محاذ بنارہے تھے تب انھوں نے کانگریس سے سمجھوتہ کرنے کی بات کی تھی مگر کانگریس نے اتحاد کرنے سے صاف انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے ایک درجن سے زیادہ سیٹوں پر ونچت کے سبب کانگریس و این سی پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ، جس کی وجہ سے شیوسینا بی جے پی کا راستہ ہموار ہوگیا تھا ۔ بہر حال کانگریسی لیڈران کو ونچت اگھاڑی کی طاقت کا اندازہ لگ گیا ہے کانگریس نے اسمبلی انتخابات میں ونچت سے سمجھوتہ کرنے کے لیۓ کوشاں ہے ۔ اگر اتحاد ہوجاتا ہے تو کانگریس این سی پی اور ونچت کتنے کتنے سیٹوں پر چناٶ لڑینگی ابھی یہ معمہ ہے ۔

چاندیولی اسمبلی حلقہ میں اگر کانگریس ونچت کے ساتھ محاذ بنا کرچناو لڑتی ہے تو کیا نتائج برآمد ہونگے اور اگر ونچت کانگریس محاذ میں شامل نہیں ہوتی ہے تو کیا نتائج برآمد ہونگے اس پر غور کرتے ہیں ۔

(1)1999میں نسیم خان نے پہلی مرتبہ کانگریس سے پرچہ نامزدگی کی اور اس انتخاب میں 87066ووٹ حاصل کرکے شیوسینا کو 64045ووٹوں پر سمیٹ دیا تھا اسی طرح 23021ووٹوں سے کامیابی کا پہلا پرچم لہرایا تھا ۔

(2)2004 کے انتخاب میں 119612ووٹ حاصل کیےتھے جبکہ شیوسینا کو 77119ووٹ ملے تھے اور اس چناو میں پہلے کے مقابلے دوگنا یعنی 42493ووٹوں سےفتح حاصل کی ۔

(3)2009 کے انتخاب میں نسیم خان نے 82616ووٹ حاصل کیے جبکہ منسے 48901اورشیوسینا 22782 ووٹ حاصل کیے باوجود اس کے 33715ووٹوں سے کامیابی کا پرچم لہرایا تھا ۔

(4)2014میں مودی لہر کی سونامی تھی اس کے باوجود نسیم خان کو 73141ووٹ ملے شیوسینا کو 43672 منسے کو 28678 اور آزاد امیدوار کو 20266ووٹ ملے تھے اس وقت بھی نسیم خان نے 29569ووٹوں سے کامیابی کا پرچم لہرا یا تھا ۔

2009و 2014 کے اسمبلی اور 2014 و 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج پر غور کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ 2009 چاندیولی اسمبلی میں کانگریس سے نسیم خان مہاراشٹر نونرمان سینا سے دلیپ لانڈے اور شیوسینا سے چترا سانگلے انتخابی میدان میں تھے دلیپ لانڈے پہلے شیوسینا میں تھے کسی وجہ سے پارٹی چھوڑکر منسے میں شامل ہوگۓ اور قسمت آزمانے کے لیۓ منسے سے پرچہ نامزدگی داخل کی اور سہ رخی لڑاٸی میں دلیپ لانڈے نے شیوسینا کو نقصان پہنچا کر 48901 ووٹ حاصل کیے شیوسینا کو صرف 22782ووٹ ملے کانگریس سے نسیم خان نے 82616ووٹ حاصل کرکے مسلسل جیت کا ریکارڈ بنایا ۔

2014کے اسمبلی انتخاب میں نسیم خان کے سامنے شیوسینا کے گمنام امیدوار سنتوش رام نیواس سنگھ کو 43672 ووٹ ملے نیسنلشٹ کانگریس چھوڑ کر منسے کا دامن تھامنے والے ایشورتاوڑے کو 28678 ووٹ ملے اور کانگریس سے بغاوت کرکے انا ملاٸی آزاد میدوار سے انتخابی مہم حصہ لیا جسے 20266 ملے لیکن نسیم خان 73141 ووٹ حاصل کرکے چوتھی مرتبہ فتح کا ریکارڈ بنایا اب سوال یہ ہے کہ کیا پانچویں مرتبہ بھی نسیم خان کامیابی کے امکان ہیں ؟ یہ کہنا مشکل ہے ۔ عارف نسیم خان کی راہیں اب مشکلات بھری ہیں اور اب ان کی کامیابی کا امکان محض چالیس فیصد ہے ۔

2014اور2019 کے پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی امیدوار پونم مہاجن نے نارتھ سینٹرل سے پریہ دت کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی چونکہ نارتھ سینٹرل پارلیمانی حلقہ میں جہاں 6اسمبلی حلقہ ہیں جن میں کرلا کالینہ باندرہ ایسٹ کی اسمبليوں پر شیوسینا ولے پارلے اور باندرہ ویسٹ پر بی جے پی نیز چاندیولی اسمبلی پر کانگریس کا قبضہ ہے ۔

2019کے پارلیمانی انتخابات میں نسیم خان کی کاوشوں سے  چاندیولی اسمبلی سے پریہ دت کانگریس کو 73743ووٹ ملے تھے جس کی وجہ سے ان گرفت برقرار ہے اور اپنی ذمہ داری کو بخوبی ادا کیا ہے وہیں بی جے پی کو 100998ووٹ ملے تھے خاص بات یہ ہے کہ ونچت اگھاڑی کے امیدوار عبدالرحمن انجاریہ کو 8238 ووٹ ملے تھے اگر پارلیمانی انتخاب کے زاویے سے دیکھا جاۓ تو یہ سیٹ شیوسینا کی جھولی میں جاتی ہوٸی نظر آرہی ہے اور ماضی کے اسمبلی نتائج پر غور کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ 2014 میں نسیم خان کو 73141ووٹ ملے تھے وہیں شیوسینا کو 43672 ووٹ ملے تھے ایشور تاٸڈے منسے کو 28678ملے تھے جبکہ انا ملاٸی کانگریس سے بغاوت کرنے کے بعد آزاد امیدوار کی حیثیت سے 20266ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔ تینوں امیدواروں کے ووٹوں کو جمع کیا جاۓ تو 92616 ووٹ ہورہے ہیں ۔

2019کے چاندیولی اسمبلی سے شیوسینا امیدوار  دلیپ لانڈے انتخابی میدان میں قسمت آزمانے والے ہیں دلیپ لانڈے بھی منسے چھوڑ کر شیوسینا میں شامل ہوگۓ ہیں علاوہ ازیں ایشور تاٶڈے اور انا ملاٸی شیوسینا میں شامل ہیں دوسری بات یہ ہے کہ کانگریس اور ونچت اگھاڑی کا اتحاد ہوتا ہے تو کچھ حد تک کانگریس کو فاٸدہ پہنچ سکتا ہے لیکن اگر اتحاد نہیں ہوا تو کانگریس کا بہت بڑا نقصان ہوگا ۔ دیکھا جاۓ تو 2014 اسمبلی انتخاب میں چاروں امیدواروں کے درمیان  165645ووٹ پول ہوۓ تھے اگر 2019کے انتخاب میں قریب 185000ووٹ پول ہونے کا امکان ہے اور تینوں امیدواروں میں تقسیم کیا جاۓ تومجموعی طور پر 60ہزارسے زاٸد جو امیدوار ووٹ حاصل کرلے وہی فاتح امیدوار بن سکتاہے لیکن قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ونچت اور مجلس اتحاد کے امیدواری پر مجلس کے فعال رکن عمران قریشی دعویداری کررہے ہیں ۔ گزشتہ ماہ چاندیولی اسمبلی میں واقع 90 فٹ روڈ میں مجلس کے اجلاس میں ممبرپارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مجلس کے امیدوار عمران قریشی کے نام کا اعلان کیا تھا ۔

2014 کے اسمبلی انتخاب میں آزاد امیدوار انا ملاٸی اور منسے امیدوار ایشور تاٸڈے اس وقت شیوسینا میں ہیں اگر یہ بھی شیو سینا سے ٹکٹ کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ٹکٹ نہیں ملا تو یہ بھی باغی ہوسکتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پارلیمانی انتخاب میں مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کانگریس کی حمایت اور این ڈی اے کے خلاف تحریک شروع کی تھی لیکن اسمبلی انتخابات 2019 میں کیا رول ادا کرتے ہیں اس پر اسمبلی نتائج کا دارومدار ہے حالانکہ چاندیولی اسمبلی حلقہ میں منسے کی جانب سے اب تک کوٸی بھی مضبوط امیدوار انتخابی میدان میں نظر نہیں آرہا ہے ۔

عوامی راۓ پر بات کی جاۓ تو لوگوں کا جہاں ایک طرف کہنا ہے کہ نسیم خان پانچویں مرتبہ بھی فتح کا پرچم لہرائیں گے دوسری یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ گذشتہ 20برسوں سے علاقے میں اقیتوں کے لیۓ ایک عدد ڈگری و میڈیکل کالج کا قیام بھی نہیں ہوسکا ۔ یہاں کے اقلیتی طلبہ کو دسویں کے بعد اعلی تعلیم کے لیۓ دوسرے علاقے کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ مسلمانوں کے لیۓ  شادی ہال نہیں ہے غریبوں کو شادی کے لیۓ 70ہزار سے زائد روپیہ ہال کا کرایہ دینا پڑتا ہے جو ان کی حیثیت سے باہر ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ علاقے کا سروے کیا جاۓ تو معلوم یہ ہوگا کہ سیکڑوں طلبہ دسویں اور بارہویں جماعت کے بعد اعلی تعلیم کے حصول سے اس لیۓ محروم ہوگۓ کہ ان کے پاس کالج کی فیس جمع کرنے کے لیۓ روپیے نہیں تھے ۔ اگر سچر کمیٹی کی شفارسات پر عمل آوری ہوٸی ہوتی تو مسلم نوجوانوں کا ایک طبقہ اعلی تعلیم سے محروم نہیں ہوتا ۔

مسلم علاقوں میں ایک طرف نوجوان اعلی تعلیم سے محرومی کا شکار ہیں تو دوسری طرف نشہ خوری اور نشہ کا کاروبار کے علاوہ غیراخلاقی کاموں میں نوجوان مرد و عورت غریبی و مجبوری کی وجہ سے ملوث ہوتے جارہے ہیں ۔ عوام الناس کا کہنا ہے کہ معاشرے میں سیاسی تعلیمی معاشی نظام کے بیداری لانے اور فلاح و بہبود کے لیۓ لاٸحہ عمل طے کرنا سیاسی لیڈران کا اہم فریضہ ہے اگر مسلم علاقوں میں ایسے نظام ہوتے تو مسلمانوں کی بدترین حالات نہیں ہوتے ۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے مسلمانوں سے ووٹ حاصل کرنے کے لیۓ سیاست داں عام مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرکے کامیابی حاصل کرکے اقتدار کے مزے لیتے ہیں ۔ عوام کے ایسے کٸی سوالات ہیں جس کا جواب تلاش کرنا بھوسے میں سوٸی کھوجنے کے مترادف ہے ۔

ذی شعور اہل علم کہتے ہیں کہ دراصل ہندی مسلمانوں میں تین طبقات ہیں پہلا طبقہ وہ ہے جن کی کثير  تعداد ہے اور اتفاق سے علم سے نابلد ہیں انھیں ہتھیلی پر چاند دکھا کر ووٹ لیا جاتا ہے ۔

دوسرے طبقہ میں مسلم علاقوں میں ایسے مسلمان ہیں جو غیرشرعی و غیرقانونی طریقے سے دولت مند بن کر موجودہ سیاستداں کو مالی تعاون کرتے ہیں اور ذاتی فاٸدہ حاصل کرتے ہیں ۔

تیسرا طبقہ وہ ہے جو چند روپیوں کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے کا کام کرتے ہیں تاکہ سیاسی لیڈران کے نزدیک معتبر بن کر ذاتی مفاد حاصل کرتے رہیں ۔ بہر حال ووٹوں اور امیدواروں کے تناسب سے کیا ہونے والا ہے یہ خاکہ قارئين کے سامنے ہے ۔

لہذا 2019مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے والا ، ممکن ہے ستمبر کے پہلے ہفتہ میں اس کا اعلان ہوجائے ۔ ہند کے أٸین و قوانين نے عوام کو ووٹ کے ذریعے حکومت اور لیڈر چننے کا حق دیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس کی حکومت اور کس لیڈر کو اپنا مسیحا منتخب کرتی ہے أنے والا وقت ہی مقرر کرے گا ؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.