صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’بلیک ستمبر‘: جب فلسطینی خاتون ہائی جیکر لیلیٰ خالد کی رہائی کے بدلے درجنوں یرغمالیوں کی زندگی محفوظ ہوئی

72,959

لندن : ستمبر 1970 میں اُردن کی مسلح افواج اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے مابین شروع ہونے والے خون ریز واقعات کو ’بلیک ستمبر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جن کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور یہ تنازع جولائی 1971 تک جاری رہا۔درحقیقت یہ واقعات کا ایک تسلسل تھا جو پہلے سے جاری تھے اور اِن کی انتہا خون خرابے کی صورت میں نکلی۔ بلیک ستمبر سے قبل پیش آنے والے چند واقعات میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم، فلسطین لبریشن فرنٹ، کی جانب سے متعدد مسافر طیاروں کی ہائی جیکنگ بھی شامل تھی۔

ان واقعات کے 30 سال بعد برطانوی حکومت نے چند مخفی سرکاری دستاویزات کو عام کیا تھا جن کے ذریعے ’بلیک ستمبر‘ سے قبل ہونے والے سلسلہ وار واقعات سے آگاہی ملتی ہے۔ان دستاویزات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت برطانیہ نے کیسے فلسطینی عسکریت پسندوں سے بات چیت کی، اُردن کے بادشاہ حسین نے فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف اسرائیل سے مدد کی اپیل کیوں کی اور اِن تمام واقعات کے دوران امریکہ کن امور پر برطانیہ سے متفق نہیں تھا؟

اس رپورٹ میں ’بلیک ستمبر‘ کے 50 برس مکمل ہونے پر اِن واقعات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

چھ ستمبر 1970 کو فلسطین لبریشن فرنٹ کے عسکریت پسندوں نے چار مسافر طیاروں کو اغوا کیا اور جرمنی، سوئٹزر لینڈ اور اسرائیل میں زیر حراست اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ان میں سے دو طیاروں کو اُردن کے ایک صحرا کے وسط میں واقع سابق آرمی ایئر فیلڈ، جسے ڈاسن ایئر فیلڈ کے نام سے جانا جاتا ہے، میں کھڑا کر دیا گیا۔ تیسرے طیارے کے عملے اور مسافروں کی رہائی کے بعد اسے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔

چوتھے طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش اس وقت ناکام ہوگئی جب جہاز میں موجود ’دہشت گردوں‘ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک ہائی جیکر اس دوران ہلاک ہوا جبکہ ایک خاتون ہائی جیکر لیلیٰ خالد کو گرفتار کر لیا گیا۔ہائی جیکنگ کی ناکام کوشش کے فوراً بعد اس مسافر طیارے کو قریب ترین واقع لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ کی جانب موڑ دیا گیا۔لیلیٰ خالد چوتھے طیارے کو اغوا کرنے والی دو رکنی ٹیم کی سرغنہ تھیں اور طیارہ برطانیہ پہنچنے پر انھیں حراست میں لے لیا گیا۔ لیلیٰ خالد کی لندن میں موجودگی نے برطانیہ کو ایک بڑے بین الاقوامی بحران سے دو چار کر دیا تھا۔

حکومتیں عموماً ’دہشت گردوں‘ کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیتی ہیں۔ برطانیہ نے ٹوکیو بین الاقوامی کنوینشن کے تحت سنہ 1963 میں کسی بھی طرح کے ہائی جیکرز کے ساتھ اُن کے مطالبات پر گفت و شنید نہ کرنے کا عہد کیا تھا، تاہم سنہ 1970 میں اس عہد کو نظر انداز کر دیا گیا۔

لیلیٰ کی گرفتاری کے بعد فلسطین لبریشن فرنٹ نے لیلیٰ خالد کے ساتھ ساتھ چند دیگر عسکریت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ اور مطالبات پورے کروانے کی غرض سے چند روز بعد ہی بمبئی سے بیروت جانے والے ایک مسافر طیارے کو ہائی جیک کر لیا گیا۔ عسکریت پسندوں نے اس طیارے پر سوار تین سو سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ مسافروں میں 65 برطانوی شہری بھی شامل تھے۔

اس حوالے سے منظر عام پر لائی جانے والی دستاویزات (برطانوی کابینہ میٹنگ کی سمریاں) اس واقعے کے پس منظر میں اس وقت کی برطانوی حکومت کو درپیش الجھن کا خلاصہ کرتی ہیں۔دستاویز میں لکھا گیا کہ ’کابینہ کو ایک مشکل اور پیچیدہ فیصلے کا سامنا ہے۔ لیلیٰ خالد نامی خاتون کو برطانیہ میں زیر حراست رکھا گیا ہے۔ اور عسکریت پسندوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے مطالبات میں سرِفہرست لیلیٰ کی رہائی ہے۔‘

عسکریت پسندوں نے برطانوی حکومت کو 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا۔ عسکریت پسندوں کی جانب سے دیے جانے والے اس وقت کے دوران برطانوی عہدیداروں کو یہ سوچنے کا موقع ملا کہ اگر لیلیٰ کو رہا کیا جاتا ہے تو درپیش صورتحال میں اس کے کیا کیا ممکنہ مضمرات یا فوائد ہو سکتے ہیں۔منظر عام پر لائی گئی دستاویزات میں لکھا ہے اس وقت کی برطانوی حکومت کے عہدیداروں نے لیلیٰ کو رہا کرنے کے فوائد اور نقصانات کا احاطہ کچھ یوں کیا۔

’فوائد: ہمیں انھیں (عسکریت پسند) فوراً اپنے سر سے ہٹانا چاہیے اور اسے برطانوی شہریوں کی جان بچانے کے اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ نقصانات: پائلٹس اور ایئر لائنز اس معاملے میں یک آواز ہیں کہ بلیک میلرز کے سامنے ہتھیار ہرگز نہیں ڈالنے چاہیئں۔ اور اس اقدام (جو برطانوی حکومت نے سوچا تھا) کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہائی جیکنگ کے بارے میں اپنے پہلی بیان کردہ پوزیشن سے پیچھے ہٹ جائیں، جو درحقیقت بین الاقوامی سول ایوی ایشن کمیونٹی میں ہماری ساکھ کو داغدار کرے گی۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ہم سنہ 1963 کے ٹوکیو کنوینشن کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔‘

اُردن کے دارالحکومت عمان میں موجود سفارت کاروں اور ایک ثالث کی مدد سے جہاز پر موجود عسکریت پسندوں نے برطانوی حکومت کو دیے گئے 72 گھنٹے کے الٹی میٹم میں توسیع کر دی۔برطانوی حکومت یہ نتیجہ پہلے ہی اخذ کر چکی تھی کہ لین دین کے بغیر یرغمالی مسافروں کا بچاؤ ممکن نہیں ہے اور اسی سوچ کے تحت برطانیہ نے اپنے سرکاری اور خفیہ چینلز کے ذریعے پسِ پردہ اغوا کاروں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر دیا۔

اس بحران کے شروع ہونے کے چھ دن بعد مذاکرات کاروں کو کچھ ابتدائی کامیابی ملی اور ہائی جیکرز نے چند یرغمالی، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے، غیر مشروط طور پر رہا کر دیے۔مگر وقت کے ساتھ اغوا کاروں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے لگا اور 12 ستمبر کو انتباہی اشارے کے طور پر طیارے میں چھوٹا دھماکہ کیا گیا۔دنیا بھر میں ٹیلی ویژن پر دیکھے جانے والے اغواکاروں کے اس عمل نے عمان میں موجود برطانوی عہدیداروں کو عسکریت پسندوں کے ارادوں کی سنگینی اور اُردن کے شاہ حسین کو اُن سے درپیش خطرات کی یاد دہانی کروا دی۔

اس کے بعد عمان اور لندن میں برطانوی سفیروں کے مابین پریشانی کے عالم میں کیے جانے والے رابطوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔عمان سے بھیجا جانے والے ٹیلی گرام پیغام میں کہا گیا کہ ’فلسطین کی آزادی کے لیے سرگرم عمل پاپولر فرنٹ سے تعلق رکھنے والے چند افراد کا، جو غیر ذمہ داری اور تشدد کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں، خیال ہے کہ ہم لیلیٰ خالد کو رہا نہیں کریں گے۔ انھوں نے ہمیں ایک رابطہ کار کے ذریعہ آگاہ کیا ہے کہ اگر ہم آئندہ چند گھنٹوں میں لیلیٰ کی رہائی کی یقین دہانی نہیں کرواتے تو بہت خطرناک ردعمل ہو سکتا ہے۔ کچھ بہت ہی خطرناک۔ یہ لوگ اس بات کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ یرغمالیوں کو ہلاک کر دیں۔‘

یہ ہائی جیکنگ اُردن میں بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف بھی ہوئی، جہاں فلسطین لبریشن فرنٹ کے مسلح افراد شاہ حسین کی حکومت اور ملک کی فوج کے لیے ایک چیلنج تھے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ شاہ حسین نے ابتدائی طور پر انھیں (لبریشن فرنٹ) پناہ فراہم کی تاہم بعد ازاں اسرائیل پر حملہ کرنے میں (شاہ حسین نے) اُن کی کوئی خاص مدد نہیں کی۔

شام کی حکومت پہلے ہی عسکریت پسندوں کی حمایت کر رہی تھی۔ اس ہائی جیکنگ نے پہلے سے بھڑکتی آگ کے لیے تیل کا کام کیا۔شام ان فلسطینی تنظیموں کی حمایت کر رہا تھا جو اُردن کے کچھ حصوں پر اپنا کنٹرول جمانے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ تاہم بعد ازاں اُردن کی فوج ان تنظیموں کے اڈوں کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کو بعد میںبلیک ستمبر کے واقعات کے نام سے جانا جانے لگا۔

برطانوی وزیر اعظم ایڈورڈ ہیتھ نے بالآخر اتفاق کیا کہ برطانیہ کے پاس لیلیٰ خالد کو رہا کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔13 ستمبر کو صبح سات بجے بی بی سی عربی ریڈیو سے برطانوی حکومت کا ایک بیان نشر کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ لیلیٰ خالد کی رہائی کے بدلے طیارے پر موجود یرغمالیوں کی زندگیاں بچائے گا۔برطانیہ کے اس فیصلے پر اسرائیل سیخ پا ہوا کیونکہ اسرائیلی حکام کا ماننا تھا کہ اِس فیصلے سے ’دہشت گردی کی حوصلہ افزائی‘ ہو گی۔ منظر عام پر لائی جانے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات اُردن میں شاہ حسین کی پوزیشن اور برطانوی، امریکی تعلقات کے استحکام پر بھی پڑے۔

کچھ ہی روز بعد شاہ حسین نے لندن اور واشنگٹن سے رابطہ کر کے مدد کی باقاعدہ درخواست کر دی۔برطانوی کابینہ کی میٹنگ کی سمریوں میں انکشاف کیا گیا کہ شاہ حسین اپنی تشویش کی انتہا پر تھے اور اسی تشویش کے زیر اثر انھوں نے برطانوی اور امریکی حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ مل کر اسرائیل کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ شام کی افواج پر بمباری کرے جو فلسطینی عسکریت پسندوں کی حامی اور مددگار تھیں۔

ایک عرب حکمران کی جانب سے یہ ایک بے نظیر درخواست تھی جس کے تحت اُردن نے اسرائیل سے اپنے ہی پڑوسی مسلمان عرب ملک شام پر بمباری کی درخواست کی تھی۔ شاہ حسین کی اس درخواست پر لندن میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا۔شاہ حسین کا سب سے قریبی مغربی حلیف ہونے کے باوجود برطانیہ نے یہ پیغام اسرائیل تک نہ پہنچانے کا فیصلہ کیا اور یہ معاملہ مکمل طور پر واشنگٹن کے ہاتھ میں چھوڑ دیا۔

تاہم سنہ 2001 میں منظر عام پر لائی گئی چند دستاویزات میں یہ انکشاف ہوا کہ اسرائیلی حکومت اور امریکہ کے ساتھ اُردن کے رابطے میں خلل پڑنے کی وجہ سے شام پر بمباری کی درخواست لندن کے راستے آئی تھی۔

دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن نے اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میر کو یہ پیغام پہنچایا، لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اس پر کس ردعمل کا اظہار کیا۔شاہ حسین کی جانب کی گئی اس اپیل کے بارے میں اطلاعات اس وقت کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئیں تھیں تاہم اس وقت تمام فریقین نے اس دعوےکی سختی سے تردید کی تھی۔

فلسطین نے دعویٰ کیا تھا کہ اس درخواست کے بعد اسرائیل نے اُردن کو خفیہ طور پر ہتھیار فراہم کیے تھے اور اسرائیل نے شاہ حسین کے اس دعوے کو تسلیم کیا تھا کہ شام کی جانب سے اُردن پر چڑھائی مشرقِ وسطی میں ایک نئی جنگ کا باعث بنے گی۔تاہم اغوا کاروں سے مذاکرات کے برطانوی حکومت کے فیصلے نے واشنگٹن کو ناراض کر دیا تھا۔

واشنگٹن اور لندن میں ہائی جیکرز کے معاملے پر پیدا ہونے والے تناؤ کا خاتمہ برطانوی دفتر خارجہ کے مستقل انڈر سیکریٹری سر ڈینس گرین ہل اور وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر عہدیدار جُو سیسکو کے مابین فون پر ہونے والی ایک گفتگو کے ذریعے ہوا۔

سیسکو نے سر ڈینس کو بتایا ’میرے خیال میں آپ کی حکومت کو اس نوعیت کے اقدام کے نتیجے میں (امریکہ میں) پیدا ہونے والے غصے کو بہت محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘دستاویزات کے مطابق سر ڈینس نے جواب دیا ’(برطانوی حکومت) نے اس کا جائزہ لیا ہے۔۔۔ اسرائیل اس معاملے میں کچھ نہیں کرنے والا اور اس کے نتیجے میں ہمارے شہریوں (یرغمالیوں) کی جان جا سکتی ہے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو یہ کتنا بُرا ہو گا۔میرا مطلب ہے، لوگ پوچھیں گے کہ ہم نے کوشش کیوں نہیں کی۔‘

اُس وقت شاہ حسین نے فرانسیسی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اغوا کاروں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’عرب دنیا کے لیے وجہ شرمندگی‘ قرار دیا تھا۔انھوں نے یہ بھی انتباہ کیا کہ اگر لبریشن فرنٹ کے عسکریت پسند جنگ بندی کے حالیہ معاہدوں کا احترام نہیں کرتے ہیں تو ’انھیں اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔‘16 ستمبر کو شاہ حسین نے محمد داؤد کی سربراہی میں ایک فوجی حکومت تشکیل دی۔ اس حکومت کو لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسر عرفات نے ’فاشسٹ فوجی بغاوت‘ قرار دیا تھا۔

17 ستمبر کو اُردن کی فوج نے اُردن کے طول و عرض میں واقع علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا۔ اس بڑی کارروائی سے ہفتوں قبل ہی دونوں فریقوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔اُردن کی فوج کے کمانڈروں نے صبح سویرے دارالحکومت عمان میں ٹینکوں کے داخلے کا حکم دیا اور کارروائی میں توپ خانہ، راکٹ اور مارٹر گولے استعمال کیے گئے۔

اُردن کے شہر زرقہ میں، جو ملک کے شمال میں سپلائی کے راستوں کو کنٹرول کرتا ہے، زبردست لڑائی دیکھنے میں آئی۔لڑائی کے دوران دونوں جانب سے اپنی اپنی فتح کے متضاد دعوے ہوتے رہے۔ عمان ریڈیو کے ذریعے بتایا گیا کہ اردن کی فوج دارالحکومت کے تین چوتھائی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے جبکہ فلسطینی ذرائع نے دعوے کیے کہ عسکریت پسندوں کا پورے شہر پر کنٹرول ہو چکا ہے۔عمان کے ہوائی اڈے اور ملک کی سرحدیں بند کر دی گئیں اور مواصلات کے نظام میں خلل ڈالا گیا۔

اُردن کی جانب سے سرکاری سطح پر دعویٰ کیا گیا کہ شاہ حسین کی افواج نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے صدر دفتر پر دھاوا بول دیا ہے لیکن اس وقت تک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے رہنما یاسر عرفات کے متعلق پتہ نہیں چل پا رہا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ چند لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اس وقت شام میں موجود تھے۔لڑائی شروع ہونے کے چند روز بعد شامی افواج نے بھی مداخلت کی کوشش کی تاہم اُردن کی فوج کے ہاتھوں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد 24 ستمبر کو شام نے اپنی افواج کو اگلے محاذوں سے واپس ہٹا لیا۔

اس صورتحال کے بارے میں امریکی پوزیشن یہ تھی کہ اُس وقت کے امریکی وزیر دفاع میلون لیرڈ نے اعلان کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ اُردن میں موجود اپنے تمام 300 شہریوں کو ملک سے نکال لے گا۔ انھوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو امریکہ شاہ حسین کی حکومت کو فوجی مدد فراہم کر سکتا ہے اور کہا کہ ’سکستھ فلیٹ‘ (امریکی بحری بیڑا) کے کچھ یونٹ اس علاقے کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔

دو ہفتوں کے بعد لیلیٰ خالد اور سوئٹزر لینڈ اور جرمنی میں قید چھ دیگر فلسطینی عسکریت پسندوں کے بدلے طیارے پر موجود تمام یرغمالیوں کا بحفاظت تبادلہ ہوا۔27 ستمبر کو اردن کے شاہ حسین اور پی ایل او رہنما یاسر عرفات نے 10 دن کی تلخ کشمکش کے بعد جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔اس معاہدے پر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں بلائے گئے ایک ہنگامی سربراہی اجلاس کے دوران دستخط ہوئے۔ معاہدے کے تحت فوری طور پر جنگ بندی اور اردن کے تمام شہروں سے افواج کا مکمل انخلا کیا گیا۔

اس معاہدے پر اُردن اور فلسطین کے علاوہ دوسرے عرب ممالک کے آٹھ رہنماؤں نے دستخط کیے تھے۔ ان رہنماؤں کو مصر کے سابق صدر جمال عبد الناصر نے بحران کے جلد از جلد حل کے لیے مدعو کیا تھا۔ اگرچہ برطانیہ نے شاہ حسین کے حق میں مداخلت نہ کرنے کا انتخاب کیا تھا تاہم اس دوران پیش آنے والے واقعات شاہ حسین کے حق میں گئے اور ان کی فوج نے فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف بعد میں کامیاب مہم چلائی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.