صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بی جے پی اور کانگریس کی انتخابی جنگ

مودی نے جو وعدے کئے تھے ، یہ اب انتخاب کااہم مو ضوع بن گیا ہے

661

تحریر، سنجئے رائوت۔ترجمہ، عارِف اگاسکر

’لوک سبھا انتخابات کی سر گر میوں میں ابھی تک اضافہ نہیں ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تنبیہ دی ہے کہ انتخابی مہم میںجنگ اور فوجیوں کا استعمال نہ کیا جائے ۔ ۱۹۸۴ء میںاندرا گاندھی کے دور اقتدارمیںرونما ہو نے والے واقعات کو مَیں نے دیکھا ہے وہی واقعات آج رونما ہو رہے ہیں۔انتخاب جیتنے کے لیےسب کچھ جائز ہے یہی آج کی پالیسی ہے۔کانگریس نہیں، لیکن کانگریسی چاہیئے یہ نیارجحان اسی کا حصہ ہے‘

۲۰۱۹ء کے انتخاب ہمیشہ کی طرح نہیں ہوں گے بلکہ اس کی نوعیت جدا ہو گی ۔۲۰۱۴ء میں نریندر مودی دہلی پر قابض ہو نے کی جد و جہد کر رہے تھے جبکہ۲۰۱۹ء کے مودی اپنے وجود کو بر قرار رکھنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔۲۰۱۴ء میں مودی کے مقابلہ میںراہل گاندھی کچھ نہیں تھے لیکن آج وہ تصویر نظر نہیں آرہی ہے۔ اس وقت منموہن سنگھ پر ایسی تنقید کی جاتی تھی کہ بطوروزیر اعظم منموہن سنگھ گونگے اور بہرے،ہیں اوراہم مسئلوں پر بھی وہ خاموش رہتے ہیں۔ اگر وہ دندان ساز کے پاس بھی چلے جائیں تب بھی منھ نہیں کھو لیں گے ۔۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۹ء کے عرصہ میں ہر موضوع پربولنے والا اور زیادہ بولنے والے وزیر اعظم کے طور پرنریندر مودی نے اپنا لو ہا منوایا تھا۔لیکن وہ جو بولتے ہیں کیاانہوں نےاسےکر دکھایا ؟ یہ اب انتخاب کااہم مو ضوع بن گیا ہے ۔ انتخابی مہم میں من موہن سنگھ اور سونیا گاندھی کی شرکت کم ہو گی جس کے سبب راہل گاندھی اور پرینکا پرہی انتخابی مہم کی ذمہ داری ڈالی جائےگی ۔ لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نریندر مودی کی آندھی کا وہ کہاں تک مقابلہ کر سکیں گے ؟

اند را گاندھی(۱۹۸۴ء) اور جنگ کا بخار

آخر کار الیکشن کمیشن کو متنبہ کر نا پڑا کہ جنگ اور فوجیوں کا استعمال انتخابی مہم میں نہ کیا جائے۔ پلوامہ کا حملہ اور اس کے بعد پاکستان پر کیے گئے فضائی حملے کے تعلق سے مخالفین نے شبہ کا اظہار کیا ہے۔جنگی صورتحال پیدا کر نااور انتخابات کے میدان میں اتر نا یہ سیاسی جماعتوں کا حربہ ہوتا ہے۔( اس تعلق سے گزشتہ اتوارکے کالم میں اس کی تفصیل رقم کی جا چکی ہے) ۔دہلی میں۱۹۸۴ء کے دوران اسی طرح کے حالات رونما ہوتےہوئے میں نے دیکھے تھے ۔۱۹۸۴ء کے ستمبر اور اکتوبر میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین جنگ ہو گی۔ اس طرح کی قسم کھا کر کہنے والےلوگ اس وقت دہلی میں موجود تھے۔ اس وقت کچھ اس طرح کی بحث ہو تی تھی۔

’ پہلے حملہ کون کرے گا؟

یقینا ً پاکستان!

’ جنرل ضیاءحملے میں پہل کریں گے یا ان کے سر براہ انہیں حملہ کر نے پرمجبور کریں گے؟

شاید ہندوستانی لیڈران بھی انہیں ایسا کر نے کے لیے کہیں گے؟

یعنی،ہندوستان کے کہنے پر ہی پاکستان ہم پر حملہ کرے گا؟

ہاں ، یقیناً ! کیو نکہ اس میں دونوں بر سر اقتدار لیڈران کا مفاد وابستہ ہے۔ فریقین کو اقتدار میںیقینی طور پر بنے رہنے کے لیے یہی آسان راستہ ہے کہ وہ جنگ کے ماحول کو گر مائے رکھیں ۔

’جنگ کے کئی فائدے ہوتے ہیں۔ دفاعی محکمہ ضروری اور بھر پور ساز و سامان حاصل کر سکتا ہے ،اور عوام اور سیاست دانوں کو ناگزیز طور پر اس کی حمایت کرنا ہو تی ہے ۔ اور پھر فوراً انتخابات کی ضرورت نہیں پڑتی یا مخالفین کے ذریعہ سرکار کی مخالفت میں اٹھائے گئے دیگر موضوع پسِ پُشت چلے جاتے ہیں۔

’ جنرل ضیاء انتخابا ت نہیں چاہتے اوراندرا گاندھی بھی اسے ٹالنا چاہتی ہے ۔ ستمبر یا اکتوبر میں ہندو ستان اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تو ۱۹۸۵ء کے جنوری میں انتخابات ہو نا ممکن نہیں ہیں ۔ جس کے بعد آسانی سےمزید ایک سال لوک سبھا کی معیاد میں اضافہ کیا جائے گا ۔

’یایہ اعلان کیا جائے گا کہ جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اند راگاندھی بہ آسانی انتخاب جیت جائیں گی۔

آخر انتخاب نہ ہو نے کے لیے جنگ ضروری ہے اورکامیابی سے ہمکنار ہو نےکے لیے بھی جنگ کی ضرورت ہے۔

۱۹۸۴ءمیں بھی اندرا گاندھی نے بیرونی حملےکے خدشہ کا اظہار کیا تھا۔ جنگی بخار میں مبتلاء ملک میں اس وقت اند را گاندھی جنگ کے لیے اپنے کردا رکو اہم بنانے کی کو شش کر رہی تھیں۔بین الا قوامی سطح پر اند را گاندھی بیانات دے رہی تھیں کی ہندوستان کو پاکستان سے جنگ کا خطرہ لاحق ہے ۔ ۶؍ مارچ کو راجیو گاندھی نے’لاس اینجِلیس ٹائمس‘ کو ایک انٹر ویو دیتے ہوئے اپنے خدشہ کا یوں اظہار کیا تھا کہ چار دنوں میںپاکستان کی فوج پوری طاقت سے ہندوستان پر حملہ آور ہوگی ۔ مودی کے جن مخالفین کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ مودی اپنے سیاسی مفاد کے لیے جنگ کا استعمال کر رہے ہیں ، انہیں چاہیئے  کہ۱۹۸۴ء میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے ذریعہ پیدا کیے گئے جنگی ماحول پر بھی نظر ڈالیں ۔ لیکن اسی سال اند را گاندھی کا قتل ہونے سے عوام میں جوہمدر دی کی لہر ابھری اس سے راجیو گاندھی بڑی اکثریت سے اقتدار پر براجمان ہوئے ۔

مختلف قیاس آرائیاں

انتخابی عمل کے لیے حالات کیسے ہیں؟ اس مو ضوع پرہر خبررساں ایجنسی اپنے اپنے دعوے پیش کر رہی ہے ۔ ان ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ مودی کی قیادت والی بی جے پی کو ۲۸۲؍ سیٹیں حاصل نہیں ہوں گی اور قومی جمہوری اتحاد حکومت سازی کے لیےضروری تعداد کے قریب پہنچ کر رک جائے گی ۔ ۲۰۱۴ء میں مودی کو بے لگام اقتدار حاصل ہوا تھا ۔ کانگریس کے تئیں عوامی ناراضگی اورآخری دم تک بی جے پی کی کامیاب تشہیر ان دو وجو ہات کے سبب بی جے پی کوبے لگام اقتدار حاصل ہوا تھا ۔ اس اقتدار کو قائم رکھنے کاچیلنج آج مودی کی قیادت والی بی جے پی کے سامنے ہے۔ اول یہ کہ کانگریس سے آزاد ہندو ستان ، مودی کا یہ خواب گذشتہ چار برسوں میں پورا نہیں ہوا ہے۔اور دوسرا یعنی کئی ریاستوں میں انہیں علاقائی اور ضلعی سطح کی جماعتوں سے سمجھوتہ کر کے انتخاب لڑنا پڑ رہا ہے۔پورے ملک پر قبضہ جمانا اوراپنی قوت پر ہندوستان کو فتح کر نا بی جے پی کی منشاء تھی ۔ لیکن بھارت کوکانگریس سے آزاد کرانے کی بی جے پی کی منشاء پچھلے چار برسوں میں کامیاب نہیں ہو ئی ہے ۔

اس کے برعکس  بی جے پی میں کانگریسی لیڈران کی آزادانہ شمولیت ہوئی ہے ۔ کچھ روز قبل ہی گاندھی جی کی برسی کے مو قع پر مودی نے کہا تھاکہ گاندھی جی دور اندیش تھےاور وہ آزادی کے بعد کانگریس کو تحلیل کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن بی جے پی نے کانگریس ہی کو خود میں سمولیا ہے ۔ آج بھی بی جے پی کو اقتدار حاصل کر نے کے لیے کانگریس کی ضرورت محسوس ہو تی ہے یہی کانگریس کی کامیابی ہے ۔ مخالف جماعتوں کے اعلیٰ لیڈران میں پھوٹ ڈالنے سے بر سر اقتدار پارٹی کے لیڈران کومزیدتقویت حاصل ہو تی ہے ۔ اند را گاندھی کے دوراقتدار سے اب تک مہاراشٹر میں یشونت رائو چو ہان اور شرد پوار تک تمام لیڈران نے یہی کیا ہے ۔ اگر بی جے پی بھی یہی کر تی ہے تو اس پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟جو لیڈران ہوا کے جھو نکے کے ساتھ آئے وہ ہوا کا رخ تبدیل ہو تےہی لوٹ جائیں گے!کانگریس نہیں چاہیئے، لیکن کانگریسی چاہیئے ۔ اندرا گاندھی نہیں چاہیئے، لیکن اند را گاندھی کی پالیسی چاہیئے۔نئی سیاست کااُبال پرانے بو تل میں نظر آرہا ہے۔

 (مراٹھی روز نامہ،سامنا۔۱۷؍ مارچ ۲۰۱۹ء)

سنجئے رائوت روز نامہ سامنا کے ایکز یکیوٹو ایڈیٹر ہیں ۔(روک ٹھوک کالم سے)

Leave A Reply

Your email address will not be published.