صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بھیونڈی کے کانگریسی کارپوریٹروں کی بغاوت ، بی جے پی کی سازش تو نہیں ؟

666

بھیونڈی : (عارِف اگاسکر کی خصوصی رِپورٹ)  مختلف مراحل میں ہونے والے ۲۰۱۹ء کے پارلیمانی انتخابات کی تاریخیں جیسے جیسے قریب آتی جا رہی ہیں سیاسی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہو تا چلا جارہا ہے بھیونڈی شہر بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔ بھیونڈی لوک سبھا سیٹ سے کانگریس اعلیٰ کمان نے سابق رکن پارلیمان سریش ٹاورے کو پارٹی کا امیدواربنا یا ہے ۔ مذکورہ نشست کے لیے مہاراشٹر ریاستی کانگریس پارٹی کے جنرل سیکریٹری وِ شوناتھ پاٹل نے اپنی دعویداری پیش کی تھی ۔ لیکن آئندہ پارلیمانی انتخاب کے لیے سریش ٹاورے کو ٹکٹ دیے جا نے سے وِشو ناتھ پاٹل نے بغاوت کا علم بلند کیا ہے ۔ وہیں گزشتہ روز تھانے میں کانگریس کے تقریباً ۳۵؍کارپوریٹروں نے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کر کے اپنے ہی پارٹی کے امیدوار سریش ٹاورے کے خلاف محاذ کھول کرسبھی کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ مذکورہ پریس کانفرنس میں کانگریسی کارپوریٹروں نے صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے یہ الزام عائد کیا  ہے کہ سریش ٹاورے کبھی بھی پارٹی کے وفادار نہیں رہے ہیں اور نہ ہی ان میں انتخاب جیتنے کی صلاحیت ہے ۔ جبکہ سریش ٹاورے کو بھیونڈی کا اولین میئر اور اولین رکن پارلیمان بننے کا شرف حاصل ہے ۔ انتخابی عمل سے قبل ہی کانگریسی کارپوریٹروں کی یہ ناراضگی سریش ٹاورے کے انتخابی عمل پر کس حد تک اثر اندازہو گی اس تعلق سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے ۔ لیکن کانگریسی کار پوریٹروں کی یہ ناراضگی کسی بھی طرح پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے ۔

کانگریس کےناراض کارپوریٹروں نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ ہم نے اس تعلق سے کانگریس اعلیٰ کمان کو مطلع کیا تھا ۔ سریش ٹاورے کوپارٹی کا امیدوار بنانے کی شدید مخالفت کی تھی لیکن پارٹی نے ہماری باتوں کی ان دیکھی کرتے ہوئے سریش ٹاورے کو امیدواری عطا کی ہے جو ہمیں منظور نہیں ہے ۔ ہم نے پارٹی اعلیٰ کمان سے مطالبہ کیا تھا کہ سریش ٹاورے کی امیدواری کو تبدیل کیا جائے اورسُریش مہاترے عرف بالیا ماما کو بھیونڈی انتخابی حلقہ سے امیدوار بنا یا جائے ۔ مہاراشٹر کے تین انتخابی حلقوں سے اگر امیدوار تبدیل کیے جا سکتے ہیں تو بھیونڈی انتخابی حلقہ سے سریش ٹاورے کی امیدواری کو کیوں تبدیل نہیں کیا جا سکتا ؟ پارٹی اعلیٰ کمان نے ہماری بات نہیں مانی تو ہم سریش ٹاورے کا کام نہیں کر یں گے اور ضرورت پڑنے پر اپنے عہدے سے اجتماعی طور پر استعفیٰ بھی دے دیں گے ۔

حیرت تو اس بات پر ہےکہ یہ ناراض کانگریسی کارپوریٹرس جس شخص کی حمایت کر رہے ہیں وہ شیو سینا کا قد آور لیڈر بتایا جا تا ہے ۔ اس نے اب تک کانگریس کی ابتدائی رکنیت بھی حاصل نہیں کی ہے اور نہ ہی اب تک کانگریس پارٹی میں با ضابطہ طور پر شمولیت اختیار کی ہے ۔ اس کے باوجود اس کی حمایت کرنا کہیں بڑے پیمانے پرکھیلے جا رہے ’ہارس ٹریڈنگ‘ کا معاملہ تو نہیں ہے ؟ کیو نکہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں تو اس وقت ملک میں بی جے پی کی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ جس کا خمیازہ اسے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔ بھیونڈی انتخابی حلقہ میں بھی بی جے پی کا وہ اثر نظر نہیں آتا جو اس سے قبل ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی انتخاب میں نظر آر ہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دور دور تک بی جے پی کے امیدوار کپل پاٹل کے کامیاب ہو نے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ہیں ۔ اس تعلق سے شہریوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں ہیں ۔ اس سلسلے میں جانکاروں کا کہنا ہے کہ ’لڑاائو اورراج کرو‘ یہ ہمیشہ سے بی جے پی کی حکمت عملی رہی ہے ۔ شاید اسی حکمت عملی کے تحت  بی جے پی نے وِشوناتھ پاٹل کوبغاوت کر نے پرآمادہ کیا ہو؟

بتایا جاتا ہے کہ وِشوناتھ پاٹل کُنبی سماج سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ایک اچھا خاصا ووٹ بینک رکھتے ہیں ۔ ۲۰۰۹ء کے پارلیمانی انتخاب میں انہوں نے بطور آزاد امیدوار ۹۶۷ـ۷۷؍  یعنی ۱۳ء۳۲ فیصد ووٹ حاصل کیے تھے ۔ ان کے ساتھ ووٹ بینک کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے کانگریس میں ان کی شمولیت کی راہ ہموار ہوئی ۔ کانگریس اعلیٰ کمان نے۲۰۱۴ء کے پارلیمانی انتخاب میں سریش ٹاورے کی بجائے وِشو ناتھ پاٹل کو بھیونڈی سے اپنا امیدوار بنا دیا ۔ لیکن وِ شو ناتھ پاٹل مذکورہ انتخاب میں اپنے مدمقابل بی جے پی کے امیدوار کپل پاٹل کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوئے اور ۳۰۱۶۲۰؍ ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے ۔ یہیں سے وِشوناتھ پاٹل کو احساس ہوا کہ وہ کانگریس کے قد آور لیڈر بن گئے ہیں اور حالیہ انتخاب میں امیدواری کا قرعہ فال انہی کے نام نکلے گا ۔ لیکن کانگریس اعلیٰ کمان نے انتہائی سمجھ بوجھ سے فیصلہ کر تے ہوئے سریش ٹاورے کی امیدواری کا اعلان کر دیا ۔ کانگریس اعلیٰ کمان کے اس فیصلہ سے وِشو ناتھ پاٹل کو زبردست جھٹکا لگا اور انہوں نے پارٹی اعلیٰ کمان کے اس فیصلہ کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے اس سے فائدہ اٹھا تے ہوئے وِشو ناتھ پاٹل کو جو ماضی میں سنگھ پریوار سے جڑے ہوئے تھے اور کئی بر سوں تک بی جے پی کے اہم عہدیدار رہ بھی چکے تھے کوبغاوت پر اکسایا ہے ، تاکہ کانگریس کو گھیرا جاسکے ۔ دوسری جانب بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے ناراض کانگریسی کارپوریٹروں کی حمایت حاصل کر نے میں بھی بی جے پی کامیاب ہو گئی ہے ۔ بتایا جا تا ہے کہ سریش ٹاورے کے ساتھ ناراض کانگریسی کارپوریٹروں کی مخالفت ۲۰۱۲ءکے میو نسپل انتخاب سے جاری ہے ۔ اس وقت میونسپل کارپوریشن کے انتخاب میں سب سے زیادہ ۲۶؍ سیٹیں حاصل کرکے کانگریس نے شیو سینا کی حمایت سے اپنا میئر بنانے کی کو شش شروع کی تھی ۔ لیکن فرقہ پرست پارٹی سے ہاتھ ملانے پر اعتراض جتاتے ہوئے سریش ٹاورے نے جو اس وقت رکن پارلیمان تھے سخت مخالفت کی تھی ۔ جبکہ متعدد کانگریسی کارپوریٹروں نے یہ دلیل پیش کی تھی کہ جب صدر جمہوریہ کے انتخاب میں شیو سینا نے پر تیبھا پاٹل کی حمایت کی تھی تو میئر کے انتخاب میں ہم شیو سینا سے کیوں حمایت حاصل نہیں کر سکتے؟ سریش ٹاورے اور ناراض کانگریسیوں کے مابین اختلاف اتنا بڑھا کہ انہوں نے سریش ٹاورے کا پتلہ تک نذر آتش کیا تھا ۔

بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اپنی حکمت عملی سے کانگریس پارٹی میں انتشار پیدا کر نے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ رائے د ہندگان مخمصے کا شکار ہو جائیں اور پارٹی کے اس داخلی انتشار سے بد ظن ہو جائیں اورسیکولر ووٹوں کا شیزارہ بکھر جائے ۔ جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو حاصل ہو نے سے بی جے پی کے امیدوار کپل پاٹل کی کامیابی کی راہ ہموار ہو سکے ۔ تاہم ناراض کانگریسی کارپوریٹروں کا بیان سو شل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی ذریعہ عوام کے سامنے آنے سے شہر کا باشعور طبقہ متفکر ہو گیا ہے ۔ بتایا جا تا ہے کہ شہری مسائل کے تدارک میں میو نسپل کارپوریٹروں کی ناکامی کی وجہ سے شہر کے بیشتر سنجیدہ افراد ان سے بد ظن ہیں ۔ اس لیے ان کی اس حرکت کو انہوں نے صرف ذاتی مفاد قرار دیتے ہوئے کوئی اہمیت نہیں دی ہے ۔ ان کی اس حرکت کو وہ ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت گر دانتے ہیں ۔

واضح ہو کہ بھیو نڈی پارلیمانی حلقہ جو اس سے قبل ڈہانو پارلیمانی حلقہ کہلاتا تھا کانگریس کا روایتی حلقہ انتخاب رہا ہے ۔ ۱۹۶۲،۱۹۶۷،۱۹۷۱،۱۹۸۰،۱۹۸۴، ۱۹۸۹ ،۱۹۹۱ ،۱۹۹۸ ،۲۰۰۴ اور ۲۰۰۹ میں یہاں سے بالترتیب یشونت رائو مارتنڈرائو مُکنے ، سو نو بائو ڈگڈو بسونت ، ویج ناتھ شری کر شنا دھامنکر ، دامو بارکو شنگڑہ ، شنکر سکھا رام نم ، دامو بار کو شنگڑہ اور سریش ٹاورے کانگریس کے ٹکٹ پر بھاری اکثیریت سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں ۔ جبکہ ۱۹۷۷ء میں یہ نشست سی پی آئی کے لہانوشڈوا کوم۱۹۹۶ء اور ۱۹۹۹ء میں بی جے پی کے چنتا من ونگا اور ۲۰۱۴ء میں بی جے پی کے کپل پاٹل کے قبضہ میں چلی گئی ہے ۔۱۹؍ فروری ۲۰۰۸ء میں بھیونڈی لوک سبھا کے انتخاب میں سریش ٹاورے نے ۱۸۲۷۸۹ یعنی ۳۱ء۲۹ فی صد ووٹ حاصل کیے اورکانگریس کے اولین رکن پارلیمان بننے کا شرف حاصل کیا ۔ جبکہ ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی انتخاب میں کانگریس اعلیٰ کمان نے سریش ٹاورے کی بجائے بی جے پی اور کُنبی سینا سے پارٹی میں شمولیت اختیار کر نے والے وِشو ناتھ پاٹل پر اعتماد ظاہر کر تے ہوئے سریش ٹاورے کو امیدواری سے محروم کیا ۔ اس وقت ملک میں مودی لہر چل رہی تھی جس کی وجہ سے وِشو ناتھ پاٹل اپنے مد مقابل بی جے پی کے امیدوار کپل پاٹل سے بری طرح شکست کھا گئے اور یہ نشست بی جے پی کے قبضہ میں چلی گئی ۔

لیکن آج مر کز میں بر سر اقتدار مودی سرکار کے کھو کھلے دعوئوں ، عوام دشمن فیصلوں اور تانا شاہی کے سبب ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے ۔ ملک میں مودی لہر کے کھو جانے اورہر محاذ پر مرکزی سرکار کی ناکامی سےعوام میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے اور اس وقت وہ ایک بڑی تبدیلی کے خواہاں ہیں ۔ جبکہ کانگریس کے قومی صدر راہل گاندھی کی قیادت نے اس وقت ملک میں کانگریس کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے ۔ جی ایس ٹی ، نوٹ بندی ، رافیل جیسے اہم مدعوں پر راہل گاندھی کے لگاتار حملوں نے بی جے پی کو دفاعی پوزیشن میں کھڑا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھیونڈی پارلیمانی حلقہ انتخاب میں کانگریس کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے اورمذکورہ حلقہ انتخاب سے کانگریس کی کامیابی یقینی مانی جا رہی ہے ۔اس لیے ہو سکتا ہے کہ بی جے پی اپنی حکمت عملی کے ذریعہ وِشوناتھ پاٹل اور باغی کانگریسی کارپوریٹروں میں ہوا بھر کر کانگریسی ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کی کو شش کر رہی ہے ، تاکہ بی جے پی کا امیدوار کامیابی سے ہمکنار ہو ۔ ابھی انتخا بی عمل کے شروع ہو نے میں تقریباً ایک ماہ کا عرصہ باقی ہے اس دوران مزید کیا کیا تبدیلیاں آتی ہیں اس پر تمام پارٹیوں کی نظریں مر کوز ہیں اور عوام بھی منتظر ہے کہ سیاست کی اس بساط پر کون کسے شہ اور مات دیتا ہے ؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.