صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

صحافیوں کے مسائل سے واقف ہوں ، انہیں حل کرنے کی ضرورت ہے : بھگت سنگھ کوشیاری

35,366

ممبئی : مختلف زبان  و برقی میڈٰیا کے صحافیوں پر مشتمل پتر کار وکاس فائونڈیشن کےایک وفد نے مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے راج بھون میں ملاقات کی اور صحافیوں کے مسائل پر مبنی ایک محضر نامہ پیش کیا ۔ گورنر موصوف نے اسے پڑھا اور بڑی ہی بے تکلفی کے ساتھ صحافیوں کے مسائل پر باتیں کیں ،انہوں نے کہا کہ میں نےاردو سیکھی ہے، پڑھ بھی لیتا ہوں، بڑی میٹھی زبان ہے اس کے اشعار بہت بڑی داستان ایک سطر میں بیان کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل یقیناً سنگین ہیں مگر جن کی ذمہ داری ہے وہ توجہ نہیں دیتے۔

اس موقع پر سرفراز آرزو (مالک و مدیر روزنامہ ھندوستان) نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل تو بہت ہیں لیکن صحافی جو دنیا کے مسائل اٹھاتا ہے ان کے بارے میں لکھتا ہے خوداپنے مسائل بیان نہیں کرپاتا اور نہ لکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون میں سب سے زیادہ متاثر صحافی ہی ہوئے ہیں جو فیلڈ میں نہیں جاسکے گھر پر رہے انہیں ملازمت سے ہی ہٹا دیا گیا ۔ جو جان جوکھم میں ڈال کر دفتر جاتے رہے انکی کوئی پرواہ نہیں کی گئی۔ سرفراز آرزو نے گورنر کے گوش گزار کیا کہ ہمارا سب سے اہم مسئلہ رہائش کا ہے ،جسے آپ اپنے خصوصی اختیارات سے حل کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح تحفظ کا اور لوکل ٹرین میں سفر کا مسئلہ بھی سنگین ہے جو حل طلب ہے کیونکہ صحافی کو کبھی بھی کہیں بھی فوراً پہنچنا رہتا ہے اس کے لئے لوکل ٹرین ہی مناسب ہے مگر اس میں سفر کی اجازت نہیں ہے اسلئے وزارت ریل سے اس معاملے کو اٹھا کر اوراپنے اختیارات کا استعمال کر کے صحافیوں کو لوکل ٹرین میں سفر کرنے کی اجازت دلائیں۔

ای ٹی وی بھارت کے کنٹینٹ ایڈیٹر شاہد انصاری نے گورنر کو بتایا کہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا سمیت تمام صحافیوں کو کورونا وبا کے دوران بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ،بہت سارے صحافی اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اس لئے صحافیوں کے مسائل پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ محمد یوسف رانا نے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے صحافیوں کو در پیش مسائل کو تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کے دوران ڈاکٹرس، پولس اہلکار، طبی ملازمین کے ساتھ ساتھ صحافیوں نے بھی اپنی بیش بہا خدمات پیش کیں ہیں اس لئے انہیں ’’انتہائی ضروری خدمات‘‘ کے زمرے میں شامل کرکے ریلوے سفرکی سہولیات دی جائے اورکورونا سے متاثر صحافیوں کو اسپتال میں دوران علاج جو اخراجات ہوئے ہیں دیا جائے۔

 نیز جن صحافیوں کی کورونا کی وجہ سے موت واقع ہوگئی ہے ان کی معقول مدد کی جائے۔ گورنر کوشیاری نے وفد میں شامل صحافیوں کی باتوں کو غور سے سننے کے بعد کہا کہ آپ لوگ آتے رہیئے، فالو اپ کرتے رہیے، کوئی نہ کوئی اچھا راستہ بھی نکل آئے گا۔ مذکورہ وفد میں معروف صحافی سرفراز آرزو(روزنامہ ہندستان)، کنٹینٹ ایڈیٹر شاہد انصاری(ای ٹی وی بھارت)، محمد یوسف رانا(اردو ٹائمز)، فتح محمد خان (مدیر انڈین اسپیچ) وغیرہ شامل تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.