صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بابا بنگالی کی پولس کمشنر سے ملاقات، عرصہ سے ملاقات کیلئے جدوجہد کررہے تھے، امین پٹیل نے مشکل آسان کی

236,891

 

ممبئی: آزاد میدان فسادات اور قتل کے ملزم اور نام نہاد مذہبی شخصیت نتھانی بلڈر کے پنٹر دو ٹانکی کے باہوبالی توڑوئے ناگپاڑہ شری معین اشرف عرف بابا بنگالی ممبئی پولس کمشنر سے ملاقات کی، چونکہ بابا بنگالی کے تعلق سے ممبئی کے پولس کمشنر کو معلومات نہیں ہے کہ وہ آزاد میدان فسادات کا اہم ملزم ہے ۔ہزاروں لوگ ممبئی پولس کمشنر کے در پر دستک دیتے ہیں اس لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ہر ایک کی جانکاری رکھیں ۔

بابا بنگالی بھی گذشتہ کئی ماہ سے ہمیشہ کی طرح موجودہ کمشنر کے ساتھ فوٹو کھینچوانے کیلئے ہاتھ پیر مار رہا تھا لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے جگاڑ نہیں جم رہا تھا ۔لیکن امین پٹیل نے اسے سی پی ممبئی سے ملاقات کرانے میں کامیابی حاصل کر لی لیکن کمشنر کے ساتھ روبرو فوٹو سیشن نہیں ہوسکا تاکہ سادہ لوح عوام اور مقامی تھانوں کے پولس اہلکاروں میں یہ بھرم پیدا ہوسکے کہ اس کی پہونچ پولس کمشنر تک ہے ۔ اس کی آڑ میں بلڈروں سے وصولی نیز غنڈوں موالیوں کے درمیان مانڈولی نیز پولس پر دباؤ بنا کر اپنے مخالفین پر جھوٹے معاملات درج کرانے میں سہولت ہو ۔ لیکن موجودہ پولس کمشنر کے ساتھ فوٹو نہیں کھینچوا پانے کے سبب بابا بنگالی کی امیدوں پر پانی پھر گیا ۔
کہا جاتا ہے کہ بابانے سی پی ممبئی سے کئی اہم معاملات پر گفتگو کی لیکن سچائی یہ ہے کہ جن معاملات کو لے کر بابا بنگالی تین مہینے بعد باہر نکلے ان معاملات میں ممبئی پولس پہلے سے ہی کافی سنجیدہ ہے ۔ جس طرح ممبئی پولس قانون و انتظامات کے مسائل سے نپٹ رہی ہے وہ قابل تعریف ہے ۔ امن و قانون کی صورتحال کو بنائے رکھنے کیلئے اسے کسی بابا کی ضرورت نہیں ہے ۔

کون ہے یہ بابا بنگالی
آزاد میدان فسادات کے اہم ملزم میں سے ایک ہے حال ہی میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ہوا تھا جس کے بعد وزیر اعلیٰ کو حزب اختلاف نے نشانہ بنایا تھا ۔ آزاد میدان معاملہ میں بابا بنگالی نے ہی فساد کیلئے مسلم نوجوانوں کو اکسایا اور فساد کرایا میڈیا کی گاڑیوں کو آگ لگائی اور خاتون پولس اہلکاروں کے ساتھ بابا کے گُرگوں نے بد تمیزی کی تھی لیکن بابا کی جب گرفتاری کا وقت آیا تو بابا ممبئی چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔
بابا کو نیتا گری کا بہت شوق ہے لیکن تعلیم یافتہ نہیں ہونے کے سبب بنگالی بابا کو کسی بھی پارٹی سے بھاؤ نہیں مل رہا ہے ۔ گذشتہ برس بابا کے مریدوں نے کہا تھا کہ بابا بی جے پی کارکن کی حیثیت سے اس میں شامل ہوئے لیکن حکومت تبدیل ہوگئی اور یوں بابا کی بی جے پی شمولیت کی خواہش پر اوس پڑگیا ۔ اب بابا کی کوشش یہ ہے کہ کسی بھی طرح سیاست میں داخلہ مل جائے اس لئے موجودہ حکومت کے در پر ہاتھ پیر مار رہا ہے ۔ اس کیلئے وہ نئے نئے بہانے ڈھونڈ رہا ہے ۔چونکہ امین پٹیل کو اس حلقہ میں کافی ووٹ بینک حاصل ہے اس لئے وہ بابا کو بطور ووٹ بینک اور مسلم رہنما جگہ جگہ پیش کررہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے بابا بنگالی کو خود مسلم قوم ناپسند کرتی ہے اور وہ بابا کو ایک ڈھونگی کے روپ میں دیکھتے ہیں ۔ اسی لئے بابا بنگالی خود اپنے بھائی کو کارپوریٹر کا الیکشن بھی نہیں جتوا پائے اور وہ بری طرح ہار گئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.