صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

 شہریت ترمیم قانون کی مخالفت کی آڑ میں فسادی بابا بنگالی کی جیل بھرو نوٹنکی فلاپ گلی کا بابا گلی تک محدود

81,880
بابا بنگالی اپنے اصلی رنگ و روپ میں

ممبئی : شہریت ترمیم قانون کی مخالفت کی آڑ میں آزاد میدان فسادات اور قتل کا ملزم نام نہاد مذہبی شخصیت ، زمین مافیا ، دو ٹانکی کا باہوبلی ، نتھانی بلڈر کا دست راست شری معین اشرف عرف بابا بنگالی نے پولس گرفتاری کی نوٹنکی کی مگر عوام کے درمیان یہ نوٹنکی اپنی زمین حاصل نہیں کرپائی ۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ نوٹنکی یا نکڑ ناٹک بابا بنگالی نے میڈیا پبلسٹی کے حصول کیلئے کیا تھا ۔

مدنپورہ میں بابا بنگالی بالکل ناٹک کے انداز میں ہری مسجد سے نکل کر سیدھا پولس کی گاڑی کے دروازے پر کھڑا ہوکر بتولے بازی کرنے لگا لیکن اس کی بتولے بازی میں کہیں بھی بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے بازی نہیں تھی بلکہ خود کو پکا دیش بھکت ثابت کرنے والے بتولے بازی والا نعرہ لگا رہا تھا ۔

چونکہ بنگالی بابا خود کو بی جے پی کا مداح بتانے کی باتیں کررہا ہے حالانکہ بی جے پی کے لوگ اسے گھاس تک نہیں ڈالتے یہی وجہ ہے کہ بی جے پی حکومت کی تعریف کرتے نہیں تھکتا اور ہمیشہ بی جے پی لیڈروں کے ساتھ فوٹو کھینچوانے کیلئے کوشاں رہتا ہے تاکہ اس فوٹو کے ذریعہ سے کسی کو بھی شکار کرسکے ۔

بنگالی بابا کا یہ ناٹک تھوڑی دیر میں ختم ہوہوا پولس نے اسے ایک چکر لگا کر چھوڑ دیا ۔ اس دوران بنگالی بابا نے اپنی ویڈیو گرافی اور فوٹو بازی کی منشا بھی پوری کرلی ۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ آزاد میدان فسادات کا اہم ملزم بابا بنگالی جو کہ اس فسادات کے بعد سے پولس کی گرفتاری سے بچ رہا ہے وہ اس مرتبہ گرفتاری کے بعد بھی بچ نکلا ۔ اطلاع کے مطابق پولس والوں کو اس کی معلومات ہی نہیں تھی کہ جو بابا بنگالی پولس کو گرفتاری ناٹک کے طور پر پیش کررہا ہے وہ اصل میں آزاد میدان فسادات کا اہم ملزم ہے ۔

دوسری جانب اگست کرانتی میدان میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے اور پرامن طریقہ سے اپنا احتجاج درج کروایا ۔ یہ احتجاج تین گھنٹے تک جاری رہا اور سینٹرل ریجن کے اڈیشنل کمشنر نشیتھ مشرا جوائنٹ کمشنر ونئے چوبے پورے وقت وہیں میدان میں موجود رہے ساتھ میں ۱۵۰۰ سو پولس اہلکار بھی تعینات تھے اور یہ احتجاج پوری طرح سے کامیاب رہا ۔ دراصل اس احتجاج سے آزاد میدان فسادات کے ملزمان کو پوری طرح دور رکھا گیا تھا جبکہ احتجاج میں مسلمانوں سمیت سبھی مذاہب کے لوگوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی اور کسی نے بھی بال برابر بھی امن میں خلل ڈالنے کی کوشش نہیں کی ۔

معلوم ہوا کہ وہاں پولس اہلکار اس فراق میں تھے کہ اگر بنگالی بابا یا اس کی گینگ کا کوئی بھی شخص وہاں آس پاس بھی دکھائی دیا تو اسے سیدھے حوالات کی ہوا کھلا دیا جاتا ۔ لیکن مسلمانوں کو نام نہاد مذہبی ٹھیکیدار اور ڈرپوک و بزدل بنگالی بابا مدنپورہ کی گلی تک ہی محدود رہنے میں اپنی بھلائی سمجھ رہا تھا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.