صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مظفر نگر فرقہ وارانہ فساد کے گواہ کو فرضی انکائونٹر میں مارنے کی کوشش ناکام

بی جے پی ایم ایل اے امیش ملک کی سرپرستی میں فرقہ وارانہ فساد کے گواہوں پر دبائو بنایا جارہا ہے کہ وہ فسادیوں کے حق میں گواہی دیں

523

لکھنو/ مظفر نگر : مظفر نگر فرقہ وارانہ فساد کے گواہ اکرام پر پولس کے جان لیوا ھملہ کے بعد سماجی تنظیموں کے ایک وفد نے صفی پور پٹی کی فساد سے متاثر بستی بڈھانہ میں اس کے اہل خانہ سے ملاقات کی ۔ وفد میں الہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل سنتوش سنگھ ، رہائےی منچ کے جنرل سکریٹری راجیو یادو ، بانکے لال یادو اورع مقامی تنظیم افکار انڈیا فائونڈیشن کے رضوان سیفی ، ندیم خان ، سماجی تنظیم استِتو کے کوپِن اور کویتا شامل تھے ۔

وفد سے اکرام کی بیوی نے بتایا کہ اس سانحہ کے بعد سے چھ بیٹیوں اور دو بیٹوں کے ساتھ عدم تحفظ کا احساس کررہی ہے ۔ انہیں ڈر ہے کہ کب پولس آجائے ۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۷ جون کو شام تقریبا پانچ بجے تین پولس اہلکار دوبارہ آئے ۔ انہوں  نے کہا کہ وہ پولس پر ہوئے حملہ کی تفتیش کرنے آئے ہیں ۔ اکرام کی بیوی نے بتایا کہ ان کے شوہر پر گولیاں پولس نے چلائیں ، انکے کپڑے پھاڑ دیئے اور اب کہہ رہے ہیں کہ پولس پر حملہ ۔۔

اکرام کی بیٹی سلمہ بتاتی ہیں کہ اسکے والد اور دادا مظفر نگر فرقہ وارانہ فساد معاملہ میں گواہ ہیں اور ان پر لگاتار گواہی بدلنے کیلئے دبائو بنایا جارہا تھا ۔ اس دن ۱۲ جون کو سادے لباس میں ایک آدمی آیا اور پاپا کو پوچھتے ہوئے گھر میں گھس گیا ۔ محلہ میں نور حسن کے یہاں ولیمہ تھا ، بہت سے ملنے جلنے والے بھی گھر آئے تھے ۔ پاپا اوپر والے کمرے میں تھے ۔ اوپر سے وہ پاپا کو کھینچ کر لانے لگا تو افرا تفری کا ماحول بن گیا ۔ ہم سب بہنیں رونے لگیں اور اپنے پاپا کو لے جانے کی وجہ پوچھنے لگیں تو پولس والے ہمیں بھی مارنے پیٹنے لگے ۔

یہ پوچھنے پر کہ کوئی خاتون کانسٹبل تھی ، سلمہ نے بتایا نہیں ۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ پولس والوں نے خواتین کو بھی مارا پیٹا ۔ ان کی امی اور دیگر لوگوں نے اس کی مخالفت کی تو پولس نے انکے ساتھ مار پیٹ کی اور ان کے کپڑے پھاڑ دیئے ۔ ساٹھ سالہ ضعیفہ حسینہ کے پیر اور ان کی بہن روبینہ کی گردن میں آج بھی چوٹوں کے زخإ دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اس کے بعد پولس والے ان کے والد کو جبراً لے جانے لگے ۔ اس کی مخلافت کرنے پر گولیاں بھی چلائیں جس میں ایک گولی انہوں نے تو ایسی چلائی جیسے انہیں پکڑنا تو ایک بہانہ تھا وہ تو پاپا کو بس مارنے کیلئے ہی آئے تھے ۔ سلمہ نے روتے ہوئے بتایا کہ ۲۵ جون کو اس کی شادی ہے اور پولس والوں نے تو ہمارے گھر میں غم کا ماحول پید اکردیا ہے ۔

اکرام کے والد نافع الدین بتاتے ہیں کہ وہ رئیس کے قتل کے گواہ ہیں اور ۲۴ جون کو عدالت میں انکی گواہی ہے ۔ اس لئے ان پر پچھلے پانچ سات ماہ سے دبائو بنایا جارہا ہے ۔ کرن ، مدن ، پروین ، پھیرو ، وکی ، ملزمان کا نام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب ایک ایل اے امیش ملک کے آدمی ہیں ۔ وہ لوگ جب اکرام کو نہیں لے جا پائے تو یہ کہانی بنائی ۔ وہ تو میرے بیٹے کو اس دن مار ہی دیتے ۔ محلہ والے بتاتے ہیں کہ سادہ لباس والا نِتِن کانسٹبل تھا جس کے ساتھ تین موٹر سائیکل پر دیگر افراد آئے تھے ۔ تھوڑی دیر میں ایک بولیرو اور دو جیپ بھی آگئی ۔ رئیس قتل معاملہ میں شمشیر بھی ان کے ساتھ گواہ ہیں ۔ ان پر بھی لگاتار دبائو ہے ، وہ بتاتے ہیں کہ ملزم کی طرف سے ساڑھے چار لاکھ روپئے دے کر دیگر گواہوں کو اپنے حق میں کر لیا ہے جن میں افروز ، پروین اور یہاں تک کہ رئیس کا لڑکا حنیف بھی شامل ہے ۔

رئیس قتل معاملہ کے اہم گواہ شمشیر اس دن اکرام کے ساتھ ہوئے سانحہ کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کرن نے چھ لاکھ روپئے تک گواہی بدلنے پر دیا جائے گا ۔ یہ لوگ لگاتار مہینوں سے دبائو بنارہے ہیں ۔ اس حادثہ کے پندرہ بیس دن پہلے بھی سریش اور رئیس کا بیٹا حنیف آئے ۔ دو مہینے سے ان کا دبائو بہت بڑھ گیا ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ کرن ، سریش ، بھورا ، پھیرو ، وکی ، مدن ، سنہسر، پروین ، شیامت یہ سبھی دو دو تین تین سال تو کوئی چھ چھ ماہ جیل کاٹ کر نکلے ہیں ۔

اکرام اور ان کے بھائی عادم بھی پھیری کے کام سے خاندان کے اخراجات پورے کرتے ہیں ۔ فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین کے اس محلہ میں محمد پور رائے سنگھ ، کھیڑا ، فغانہ اور دیگر جگہوں سے فرقہ پرستوں کے خوف سے ہجرت کرنے والے ساٹھ ستر خاندانوں کا بسیرا ہے ۔

وفد نے پایا کہ گائوں محمد پور رائے سنگھ تھانہ بھیرا کلاں میں ۸ ستمبر ۲۰۱۳ کو ہوئے فساد میں رئیس الدین ولد کپورا کو قتل کردیا گیا تھا جس کے گواہ اکرام کے والد نافع الدین ہیں ۔ اکرام سمیت کئی لوگ کے گھروں میں آگزنی ہوئی تھی جس کو لے کر مقدمہ درج ہوا تھا ۔ اس واقعہ کی اسپیشل تفتیشی ٹیم نے جانچ کی تھی جس کے بعد پھیرو ، کرن ، سنہسر ، مدن ، پروین ، وجئے اور سنجیو وغیرہ کو ملزم بنایا گیا تھا ۔ مذکورہ مقدمہ میں اکرام کی گواہی ہونی ہے اسی کی وجہ سے سریش ، وکی اور دیگر اکرام پر چھ سات مہینے سے اپنے حق میں اکرام کی گواہی دینے کا دبائو بنارہے تھے ۔ سریش اور دیگر ۱۰جون ۲۰۱۹  صبح دس بجے اکرام کے گھر آئے اور سمجھوتے کے لئے دبائو بنانے لگے ۔ سریش کا کہنا تھا کہ ایم ایل اے امیش ملک کے کہنے کے مطابق فیصلہ کرلو تمکو چھ لاکھ روپئے ملیں گے لیکن اگر گواہی دو گے تو تمہارا انکائونٹر کرادیا جائے گا ۔ اکرام لالچ اور دھمکی کے سامنے نہیں جھکے ۔

دوسری جانب سیاسی پناہ سے ملزموں کے حوصلے بلند تھے ۔ ۱۲ جون ۲۰۱۹ کو دوپہر بعد قریب ڈھائی بجے اکرام گھر میں مہمانوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کہ اکرام کون ہے ۔ اکرام کی پہچان ہوتے ہی وہ انہیں گھسیٹتے ہوئے اوپر سے نیچے کی جانب لے آیا ۔ تب تک آٹھ دس پولس والے اور آگئے تھے ۔ ان لوگوں نے کہا کہ تھانے چلو سی او نے بلایا ہے ۔ ان میں بڈھانہ تھانہ کا سپاہی نِتِن بھی تھا ستیش ، شیو کمار اور داروغہ امکار پانڈے و دیگر شامل تھے ۔

اکرام کو وہ زبردستی تھانے لے جانے لگے جبکہ ان کے پاس کوئی وارنٹ نہیں تھا ۔ اکرام کی بیوی ہاجرہ ، لڑکیاں گل افشاں ، روبی ، سلمہ ، اسما چھڑانے لگیں تو ان کو لاتوں مکوں اور ڈنڈوں سے مارا ۔ اکرام بہت خوفزدہ تھا ۔ پولس سے بچنے کی کوشش کی تو سامنے سے ایک پولس والے نے گولی چلادی ۔ وہ فوری طور سے زمین پر لیٹ گیا جس سے وہ گولی کی زد سے محفوظ رہا ۔ پھر پولس کی جانب سے دو اور ہوائی فائرنگ کی اور بندوق کے کندے سے اسے مارنے لگے ۔ اکرام کی بیوی نے اسے بچانے کی کوشش کی تو اسے اور اس کی بیٹیوں کو بھی مارا ۔

اس کی بیوی کے کپڑے تک پھاڑ دیئے ۔ آس پاس کے کافی افراد جمع ہو گئے لیکن پولس والے کچھ سننے کو راضی نہیں ہوئے ۔ پولس الیاس عرف منٹو اور انتظار فوجی کو پیٹتے ہوئے تھانے لے گئی اور بغیر کسی قصور کے حوالات میں بند کردیا ۔ تھانے پر عام لوگوں نے پہنچ کر بے قصوروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تو رات آٹھ بجے کے قریب انہیں چھوڑا گیا ۔

پولس اسٹیشن بڈھانہ پر حزب اقتدار کا دبائو صاف صاف نظر آیا جو مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات کے ملزموں کو بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو اتارو ہے ۔ جو لوگ فساد کے بعد اپنا گھر گائوں چھوڑ نے کو مجبور ہوئے تھے انہیں ایک بار پھر سیاسی انتقام سے بھرپور پولس کے تشدد کا سامنا ہے ۔ پولس اپنے اوپر اٹھ رہے سوالات سے بچنے کیلئے کہہ رہی ہے کہ وہ وہاں بدمعاش کو پکڑنے گئی تھی ۔ سوال اٹھتا ہے کہ اکرام پر پولس نے فائرنگ کیوں کی ؟ سادہ لباس میں اکرام کو مارتے ہوئے جو ویڈیو سامنے آیا ہے اسے دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ پولس اکرام کا انکائونٹر کرنے آئی تھی ۔

اپنے بچائو میں پولس نے یہ کہانی گڑھی ہے کہ وہ راجا نام کے بدمعاش کو پکڑنے کے لئے گئی تھی جسے اکرام نے پناہ دی تھی ۔ ایسے میں پولس نے اس کو بھگانے کے عوض میں اکرام کو نشانہ بنایا ۔ ایسا کرکے وہ یوپی میں ہورہے فرضی انکائونٹر میں ایک اور انکائونٹر کو نہ صرف شامل کرتی بلکہ مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات کے ملزم بی جے پی ایم یال اے امیش ملک کے حامیوں کی گردن قانون کے ہاتھوں سے چھڑا بھی لیتی ۔

اگر ایسا نہیں تھا تو کیوں پولس بار بار ویڈیو میں بھی کہہ رہی ہے کہ سی او صاحب بلا رہے ہیں ۔ کسی کو بغیر وارنٹ اٹھانے میں سی او صاحب کی اتنی دلچسپی کیوں تھی ؟ کہ اس کے اوپر تین تین گولیاں چلائی گئیں ۔ اگر کوئی حادثہ ہو جاتا تو اس کے ذمہ دار سی او صاحب اور ان کے کہنے پر آئے پولس اہلکار نہیں ہوتے ؟ اس لئے مجرمانہ سرگرمیوں کے ذمہ دار پولس اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.