صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

آندھرا کے وزیر اعلیٰ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سینئر جج کیخلاف شکایت کی

13,892

حیدرآباد: آندھرا پردیش کے وزیر اعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریڈی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (سی جے آئی) ایس اے بوبڑے کو خط لکھ کر جج کی شکایت کی ہے اور جج کے خلاف متعدد الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ جج تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے لئے کام کر رہے ہیں اور ریاست کے سابق وزیر اعلی اور اپوزیشن لیڈر چندرابابو نائیڈو کے بے حد قریبی ہیں۔

چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں وزیر اعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے تکلیف اور اذیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہائی کورٹ جیسے اداروں کو جمہوری طور پر منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مبینہ کوششیں کس طرح کی جا رہی ہیں۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج آندھرا پردیش ہائی کورٹ پر اثر ڈال رہے ہیں۔ خط میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور چار دیگر ججوں کے نام لئے گئے ہیں۔ الزام لگایا گیا ہے کہ ان مقدمات کے انتظام میں ہائی کورٹ کے ججوں کے روسٹر کو متاثر کیا جا رہا ہے، جو کہ چندربابو نائیڈو اور تیلگو دیشم پارٹی کے لئے اہم ہیں۔

وزیر اعلی نے ان معاملات کا حوالہ دیا ہے اور دستاویزات بھی بطور ثبوت پیش کئے ہیں، جن میں مبینہ طور پر تلگو دیشم پارٹی کے قائدین کے حق میں فیصلے دیئے گئے ہیں۔ اس طرح کے فیصلے کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو "پالیسی کے محاذ اور چندر بابو نائیڈو کے دور میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات میں حکومت کے کام میں رخنہ اندازی کرتا ہے۔”

یہ شکایتی خط جمعرات (8 اکتوبر) کو پیش کیا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ یہ خط 6 اکتوبر کو چیف جسٹس کو لکھا گیا ہے اور جگن موہن ریڈی نے اسی دن دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔ اس میٹنگ کو رسمی ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ بقیہ واجبات سمیت آندھرا پردیش کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جگن موہن ریڈی نے اس سے دو ہفتے قبل وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی ملاقات کی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.