صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

سریش ٹاورے کی امیدواری کے تعلق سے پارٹی اعلیٰ کمان کے فیصلہ کو تسلیم کیا جائے : پرویز خان

582

بھیونڈی : (عارِف اگاسکر)گزشتہ دنوں بھیونڈی لوک سبھا حلقہ انتخاب سے کانگریسی امیدوار سریش ٹاورے کی مخالفت میںمتعدد کانگریسی کارپوریٹروں کی بغاوت نے شہر میں افواہوں کا با زار گرم کیا تھا۔جس کو لے کر مذکورہ حلقہ انتخاب کےلاکھوں سکیو لر رائے د ہند گان اور کانگریسی کار کنان میںزبردست اضطراب پایا جا رہا تھا۔ایک طرح سے شہر میں بے چینی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔
ان باغی کارپوریٹروں کا پارٹی ہائی کمان سے مطالبہ تھا کہ سریش ٹاورے کی امیدواری کو تبدیل کیا جائے بصورت دیگر وہ اجتماعی طور پر استعفیٰ دیں گے۔ لیکن افواہوں کا بازار اس وقت تھم گیا جب کانگریس اعلیٰ کمان نے اس تعلق سے مکمل خاموشی بر تی ۔ جس سے یہ بات عیاں ہو تی ہے کہ پارٹی اعلیٰ کمان بھیونڈی لوک سبھا حلقہ انتخاب سےکانگریس کے سابق رکن پارلیمان سریش کاشی ناتھ ٹاورے کی امیدواری کو تبدیل کر نے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
شہر میں پیدا ہوئی اس صورتحال پرتبصرہ کر تے ہوئے غیر منظم کانگریس کمیٹی کے ریاستی نائب صدر اور آل انڈیا قومی تنظیم کے مقامی صدر پر ویز خان عرف پی کے نے صحافیوں سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ کانگریس اعلیٰ کمان نے بھیونڈی پارلیمانی حلقہ سے سریش ٹاورے کو اپنا امیدوار بنا کر بہت ہی ٹھوس فیصلہ کیا ہے۔سریش ٹاورے کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئےبلا شک و شبہ یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس حلقے سے اس بار پھر وہ اپنی کامیابی درج کرائیں گے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری جد وجہد کے ساتھ محنت، لگن اور جذبے کے ساتھ نیز تمام سابقہ اختلاف کو بھلا کر انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا جا ناچاہیے۔
انہوں نےکسی کا نام نہ لیتے ہوئے مزید کہا کہ کچھ افراد اپنے ذاتی مفاد کے لیے پارٹی کا نقصان کر رہے ہیںجو شخص ابھی تک پارٹی میں شامل نہیں ہوا ہے اس کی حمایت میں جن افراد نے اپنی مخالفت شروع کی ہے وہ پارٹی کے لیے نقصان دہ ہے۔انہیں چاہیے کہ پارٹی اعلیٰ کمان کے فیصلہ کو تسلیم کریں اورپارٹی امید وار کی حمایت میں ہی اپنی قوت صرف کریں۔کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو امید واری دلانے کے لیے کا مطالبہ کر ناکوئی معنی نہیں رکھتا۔پارٹی اعلیٰ کمان نے سریش ٹاورے کو بھیونڈی پارلیمانی حلقہ انتخاب سے ٹکٹ عطا کیا ہے یہ پارٹی کا صحیح فیصلہ ہے۔اس لیے پارٹی اعلیٰ کمان اورپارٹی کے قومی صدر راہل گاندھی کے اس فیصلہ کی مخالفت نہیں کر نی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.